کراچی (رفیق مانگٹ) آبنائے ہرمز بحران، عالمی توانائی سپلائی میں 13ملین بیرل یومیہ کمی اور عالمی مارکیٹ میں شدید خلل، دنیا کی 20 فیصد تیل اور 25فیصد گیس سپلائی خطرے میں، معمول کے مطابق گزرنے والا 15ملین بیرل خام تیل اور 5 ملین بیرل ریفائنڈ مصنوعات یومیہ متاثر، خلیجی معیشتوں کو بھاری نقصان، 2 ارب ڈالر یومیہ آمدن متاثر، 25 ارب ڈالر سے زائد انفراسٹرکچر خسارہ، عراق کی برآمدات 3.6 ملین سے کم ہو کر 0.2–0.3 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، قطر کی 6 ارب ڈالر ماہانہ آمدن تقریباً ختم، کویت اور بحرین کی برآمدات بھی رک گئیں، عالمی قیمتوں میں طوفان، برینٹ آئل 118 ڈالر تک، یورپی گیس میں 60 فیصد اضافہ، غذائی بحران کا خطرہ، یوریا میں 30 فیصد اور ایلومینیم و فاسفیٹ میں 20 فیصد اضافہ، زرعی لاگت 20 فیصد بڑھ گئی، سپلائی چین کو دھچکا، عالمی کھاد تجارت کا ایک تہائی متاثر، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی شدید رکاوٹ نے عالمی توانائی اور تجارتی نظام کو ایک غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اٹلاٹنک کونسل، آئل اینڈ گیس جرنل، آئی ایم ایف ، قطر نیوز ایجنسی اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ بحران دنیا کی سب سے اہم سمندری توانائی گزرگاہ میں خلل کے باعث سامنے آیا، جہاں سے اوسطاً 20 فیصد عالمی تیل اور 25 فیصد ایل این جی تجارت گزرتی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف توانائی قیمتوں میں تیزی پیدا کی بلکہ سپلائی چین، خوراک، صنعتی پیداوار اور مالیاتی استحکام تک کو متاثر کیا، جس کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق روزانہ تقریباً 13 ملین بیرل تیل کی پیداوار اور ترسیل میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کے مطابق گزرنے والا 15 ملین بیرل خام تیل اور 5 ملین بیرل ریفائنڈ مصنوعات یومیہ متاثر ہوئیں۔ اس کے ساتھ ایل این جی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ بھی متاثر ہوا۔ صرف مارچ میں خلیجی ممالک کو 2 ارب ڈالر یومیہ آمدن کا نقصان ہوا، جبکہ مجموعی سپلائی نقصان 400 ملین بیرل تیل تک پہنچ گیا۔ علاقائی انفرا سٹرکچر نقصان کا تخمینہ 25 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔