کوئٹہ/ دالبندین (این این آئی/نامہ نگار) چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے تانبے اور سونے کی ایک مائن پر حملے سے مائننگ منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے ملازمین سمیت دس افراد جاں بحق ہوگئے ، حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک ترک باشندہ بھی شامل ہے۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار چالیس سے زائد مسلح افراد نے مختلف اطراف سے حملہ کیا،چھوٹے ہتھیاروں کے علاوہ راکٹ بھی داغے،تین افراد گولی لگنے اور سات جھلس کر جاں بحق ہوئے،’’لنکڈ ان‘‘ پر کمپنی کی تصدیق، فورسز بشمول فرنٹیئر کور کا فوری ردعمل ، علاقے کو محفوظ بنا لیا،مقامی حکام کے مطابق یہ حملہ بدھ کی شام دالبندین سے تقریباً 120 کلومیٹر دور دریگون میں واقع نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) کی مائننگ سائٹ پر کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار چالیس سے زائد مسلح افراد نے سائٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا۔ چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ راکٹ بھی داغے گئے۔چاغی کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مائننگ منصوبے کی سکیورٹی پر تعینات نجی سکیورٹی کمپنی کے مقامی ملازمین نے مزاحمت کی اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔مقابلے میں تین سکیورٹی گارڈ مارے گئے۔ مسلح افراد نے ڈرلنگ مشینری، جنریٹر اور دیگر آلات کو آگ لگادی۔ اس دوران فائرنگ اور راکٹ گولے لگنے سے ایک فیول ٹینک پھٹ گیا جس کی زد میں آکر کئی ملازمین جھلس گئے اور ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد جاتے ہوئے کئی گاڑیاں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس افسر کے مطابق کچھ ملازمین نے بھاگ کر قریبی گاؤں میں پناہ لی۔لاشوں اور زخمیوں کو دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال لایا گیا جہاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لونگ خان نے ہسپتال میں دس افراد کی لاشیں لا ئے جانے کی تصدیق کی جن میں سے سات جھلسنے سے ہلاک ہوئے جبکہ تین کو گولیاں لگی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ پانچ زخمیوں کو بھی لایا گیا جن میں سے دو کو ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ روانہ کردیا گیا۔ایم ایس کے مطابق مرنے والوں میں ترکی کا باشندہ عمر بھی شامل ہے جو ڈرلنگ کا کام کرتا تھا۔