• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر موٹیویشنل اسپیکرز کی نظر سے دیکھا جائے تو مرزا اسد اللّٰہ خاں غالب ایک ناکام آدمی تھے۔ عُسرت کی زندگی گزاری، آمدن سے زیادہ خرچ کیا، قرض کی مے پیتے رہے، جوئے میں پیسے ہارتے رہے، شاہ خرچیوں کی بدولت اُن پر چالیس پچاس ہزار قرضہ چڑھ گیا لیکن اپنی حرکتوں سے باز کبھی نہ آئے۔ سترہ سال پنشن کا مقدمہ لڑنے میں ضائع کر دیئے، انگریز افسران کے قصیدے لکھے مگر ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ فنانشل مینجمنٹ اور ڈسپلن کے اُن کو ہجے بھی نہیں آتے تھے، البتہ اتنی احتیاط ضرور کرتے تھے کہ شام کو پینے کے بعد داروغہ کو کہتے تھے کہ اگر رات کے کسی پہر سرخوشی کے عالم میں اُس بکس کی کُنجی مانگوں جس میں شراب رکھی ہے تو ہرگز نہ دینا اور اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ رات کو کُنجی طلب کرتے مگر داروغہ اُن کی بات نہ مانتا تو وہ اُسکو برابھلا کہہ کر سو جاتے۔ بس یہی ڈسپلن تھا اُنکی زندگی میں۔ غالب کا کردار ایک پوری کیس ا سٹڈی ہے، ڈاکٹر انیس ناگی لکھتے ہیں: ”غالب کا لائف اسٹائل عام لوگوں سے مختلف تھا۔ انہوں نے اپنی بیگم کی رہائش کیلئے دو مکان کرایے پر لیے ہوئے تھے، چار پانچ نوکر رکھے ہوئے تھے، انہیں جوا کھیلنے کی عادت تھی۔ ان تمام مصارف کیلئے معقول رقم درکار تھی لیکن غالب کی معیشت کا انحصار اُنکے چچا نصراللّٰہ بیگ کے حوالے سے برطانوی پنشن پر تھا۔ جب پنشن کی رقم سے کفالت نہ ہوتی تو وہ کبھی امراؤ بیگم کے زیورات فروخت کر دیتے یا جو کچھ ہاتھ لگتا اسے پار کر دیتے۔ اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو پھر قرض لینا شروع کر دیا۔ اپنی خواہشات پوری کرنے کیلئے وسائل کی ضرورت تھی جو غالب کے پاس نہیں تھے۔“

ایسا نہیں تھا کہ غالب کی آمدن کم تھی، غالب کے چچا نصر اللّٰہ بیگ خان کی وفات کے بعد انگریز سرکار نے اُن کے لواحقین کی جو پنشن مقرر کی اُس میں سے غالب کے حصے میں ساڑھے سات سو روپے سالانہ آئے جو تمام عمر انہیں ملتے رہے۔ اِس کے علاوہ بھی انہیں نواب یوسف علی خان، رئیس رام پور سے سو روپے ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ دیکھا جائے تو یہ معقول رقم تھی، اُس زمانے میں ایک سپاہی کی تنخواہ سے لگ بھگ بیس گنا زیادہ۔ وہ چاہتے تھے تو چادر دیکھ کر پیر پھیلا سکتے تھے اور ڈی ایچ اے دِلّی میں چھوٹی موٹی دکان خرید کر سرمایہ کاری کر سکتے تھے مگر مزاج چونکہ شروع سے شاہانہ تھا سو یہ وظیفے انہیں بہت کم لگتے تھے۔ غالب کے پنشن کے مقدمے کی تفصیل اگر پڑھی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ خود کو دس ہزار روپے سالانہ پنشن کا حقدار سمجھتے تھے، اُن کا موقف تھا کہ جس شخص کو اُنکی پنشن میں حصہ دار بنایا گیا ہے اُس کا اُنکے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”میں برداشت نہیں کر سکتا کہ میرے خاندان کا ایک ملازم میرے ساتھ برابر کا شریک ہو۔“ اِس کے علاوہ بھی اُنکے مقدمے کے کئی پہلو تھے مگر مجموعی طور پر اُن کا مقدمہ کمزور تھا، اسی لیے انگریز سرکار نے اُنکی عزت تو بہت کی مگر فائل پر ہمیشہ اعتراض ہی لگایا۔ یہ بات سمجھنے میں غالب کو سترہ برس لگے۔

موضوع سخن یہ نہیں کہ غالب کو پنشن کیوں نہیں ملی، موضوع یہ ہے کہ غالب نے کس قسم کی زندگی گزاری، پُر مسرت اور کامیاب یا تنگدستی اور ناکامی کی؟ اپنی بدحالی کا حال ایک خط میں یوں بیان کرتے ہیں: ”اب میں اور باسٹھ روپے آٹھ آنے کلکٹری کے، سو روپے رام پور کے۔ قرض دینے والا ایک میرا مختار کار۔ وہ سود ماہ بہ ماہ لیا چاہے۔ مول میں قسط اس کو دینی پڑی۔ انکم ٹیکس جدا، چوکی دار جدا، سود جدا، مول جدا، بی بی جدا، بچے جدا، شاگرد پیشہ جدا، آمد وہی ایک سو باسٹھ، تنگ آ گیا۔ گزارا مشکل ہو گیا۔ روز مرہ کام بند رہنے لگا۔ سونچا کہ کیا کروں، کہاں سے گنجائش نکالوں؟ قہر درویش بر جانِ درویش، صبح کی تبرید؟ متروک، چاشت کا گوشت آدھا، رات کی شراب و گلاب موقوف۔ بیس بائیس روپیہ مہینا بچا۔ روز مرہ کا خرچ چلا۔ یاروں نے پوچھا تبرید و شراب کب تک نہ پیو گے؟ کہا گیا کہ جب تک وہ نہ پلائیں گے۔ پوچھا، کہ نہ پیو گے تو کس طرح جیو گے؟ جواب دیا کہ جس طرح وہ جلائیں گے۔ بارے، مہینہ پورا نہیں گزار تھا کہ رام پور سے علاوہ وجہ مقرری اور روپیہ آ گیا، قرض مقسط ادا ہو گیا۔ متفرق رہا۔ خیر رہو۔ صبح کی تبرید، رات کی شراب جاری ہو گئی، گوشت پورا آنے لگا۔“

اگر کتابی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یقیناً غالب کا طرزِ زندگی قابل تقلید نہیں۔ لیکن بہرحال زندگی انہوں نے مرضی سے جی، عیاشی خوب کی، چاہے قرض کے پیسوں سے یا بیوی کے زیور بیچ کر، میوچل فنڈ میں پیسے لگا کر اِس بات کا انتظار نہیں کیا کہ کب اُن کا منافع ملے گا اور کب وہ شراب پئیں گے۔ لیکن اُنکی وجہ شہرت اِنویسٹمنٹ کنسلٹنٹ کی نہیں تھی جو اُن پر یہ تنقید کی جائے کہ انہوں نے روپوں کا درست استعمال نہیں کیا۔ ہمارے ہاں یار لوگوں کا غالب جیسا ہی لائف اسٹائل ہے۔ پلے دھیلا نہیں ہوتا اور میلہ میلہ کرتے ہیں۔ غالب ہماری قومی نفسیات کے سب سے بڑے ترجمان ہیں۔ خرچ زیادہ، آمدن کم، قرض بے حساب، مگر شان و شوکت نوابوں والی۔ ادھار کی عادت ہمیں غالب سے ہی لگی ہے۔ حالانکہ قرض اُس وقت مانگا جاتا ہے جب ناگزیر ہو جائے۔ فنانشل مینجمنٹ کیلئے اصولاً ہمیں غالب کی بجائے قائد اعظم کا پیروکار ہونا چاہیے تھا، جس طرح قائد اعظم نے مختلف جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی، حصص خریدے اور دانشمندی سے اپنی دولت میں اضافہ کیا اسی طرح ہمیں بھی اپنی زندگی اور حکومت کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم خرچ بہت کرتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم خرچ کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ واپس کہاں سے آئے گا۔ غالب کم از کم اتنا جانتے تھے کہ رام پور اور انگریزی سرکار سے وظیفہ آتا رہے گا۔ آج کے دور میں نہ رام پور ہے، نہ نواب یوسف علی خان البتہ قرضے کی شرح سود وہی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی ہے۔ آئی ایم ایف کا قرضہ غالب کی پنشن جیسا ہی ہے، بس فائل پر اعتراض کی بجائے وہ شرائط لگاتے ہیں اور ہمیں تعمیل کرتے ہی بنتی ہے۔ اپنی زندگی کو غالب سے بہتر کون بیان کر سکتا ہے: ”قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔“ ہماری فاقہ مستی نہ جانے کب رنگ لائے گی!

تازہ ترین