امریکی خلائی ادارے ناسا سے وابستہ سائنسی جائزوں کے مطابق زمین کا اختتام کسی شہابیے کے ٹکراؤ سے نہیں بلکہ بتدریج ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ سیارہ تقریباً 1 ارب سال میں زندگی کے لیے ناقابلِ رہائش بن جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ زمین کی فضا وقت کے ساتھ ایسی ہو جائے گی جو جانداروں کے لیے موزوں نہیں رہے گی، حالانکہ سیارے کے خود مکمل طور پر ختم ہونے سے پہلے ہی یہ صورتِ حال پیدا ہو جائے گی۔
جریدے کے مطابق اس عمل کی بنیادی وجہ سورج کی قدرتی ارتقائی تبدیلی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گرم ہوتا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق سورج کی حرارت میں اضافے سے زمین کا درجۂ حرارت بڑھے گا، جس سے پانی کے بخارات میں اضافہ ہو گا اور یہ عمل مزید گرمی پیدا کرے گا، یوں ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جائے گا جسے رن اوے گرین ہاؤس ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔
یہ تحقیق نیچر جیو سائنس جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں ماہرین نے موسمیاتی اور کیمیائی ماڈلز کے ذریعے زمین کے مستقبل کا جائزہ لیا ہے، تقریباً 4 لاکھ سمولیشنز کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آکسیجن سے بھرپور فضا مزید تقریباً 1.1 ارب سال تک برقرار رہ سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سب سے اہم تبدیلی آکسیجن کی کمی ہو گی، جو پانی کے مکمل طور پر ختم ہونے سے پہلے ہی واقع ہو سکتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر سانس لینے کے قابل فضا ختم ہو سکتی ہے جبکہ سیارہ ابھی مکمل طور پر خشک بھی نہیں ہوا ہو گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج تقریباً 5 ارب سال بعد پھیل کر ایک سرخ دیو (ریڈ جائنٹ) بن جائے گا، جو بالآخر زمین کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، تاہم زندگی کے خاتمے کے آثار اس سے کہیں پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔