• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا تربوز موت کی وجہ بن سکتا ہے؟ ماہرینِ صحت نے بتا دیا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

بھارتی شہر ممبئی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد پر اسرار طور پر انتقال کر گئے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات فوڈ پوائزننگ کے باعث ہوئیں۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 40 سالہ عبداللّٰہ عبدالقادر، ان کی 35 سالہ اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ بیٹی زینب ہفتے کی شب اہلِ خانہ کے ساتھ بریانی کھانے کے بعد گھر واپس آئے تھے۔ 

بعد ازاں رات تقریباً 1 بجے انہوں نے تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد سب کی طبیعت بگڑ گئی۔

کیا تربوز فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے؟

ماہرینِ صحت کے مطابق تربوز فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے یہاں تک کہ صحت کی سنگین پیچیدگیوں اور موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ تربوز میں زیادہ پانی اور قدرتی چینی کی مقدار اسے ایک ایسا ماحول بناتی ہے جہاں آلودگی کی صورت میں بیکٹیریا تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرینِ صحت کے مطابق ایسی خبریں بھی بار بار سامنے آتی رہی ہیں کہ تربوز کی مٹھاس بڑھانے یا اس کی ظاہری شکل کو بہتر بنانے  کے لیے مبینہ طور پر انجیکشن کے ذریعے اس میں گلوکوز واٹر یا چینی کا پانی شامل کیا جاتا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے ک اگر آلودہ تربوز کی مٹھاس اس طرح کے انجیکشن لگا کر بڑھائی جائے گی تو یہ بیکٹیریا کی افزائش کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق یہ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پھل میں نقصان دہ جراثیم موجود ہوں، یہ جراثیم شدید پانی کی کمی، نظاماتی انفیکشن (سیپسس)، یا جسم کے اہم اعضاء کو متاثر کرنے والی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے پر اس طرح کی پیچیدگیاں مہلک ہو سکتی ہیں۔

تربوز سے منسلک فوڈ پوائزننگ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اس کے نتیجے میں اکثر اسہال، الٹی اور پیٹ میں درد ہوتا ہے اور سنگین صورتوں میں، خاص طور پر بچوں میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

تربوز کھانے کا بہترین وقت کیا ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ تربوز کس وقت کھایا گیا؟ رات گئے پھلوں یا بھاری کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے، خاص طور پر رات 8 بجے کے بعد، کیونکہ نیند کے دوران ہاضمہ سست ہو جاتا ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ تربوز کھانے کا سب سے بہترین وقت صبح کا ہے مگر اسے دن میں بھی کھایا جا سکتا ہے۔



نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید