• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرانا لطیفہ ہے۔ ایک سردار جی بیچ سڑک پر کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈال رہے تھے، کسی نے پوچھا ” کیا ہوا سردار جی، زیادہ پی لی ہے؟“ بولے ” نہیں، ابھی تو لینے گئے ہوئے ہیں!“ جب سے لاہور میں پنجاب فلم سٹی کے قیام خبر سنی ہے، اپنا حال بھی سردار صاحب جیسا ہو گیا ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں Too good to be true، ایسی خوشی ہے کہ یقین ہی نہیں آ رہا ۔ اعلان ہوا ہے کہ پنجاب حکومت لاہور میں 50 ایکڑ اراضی پر پاکستان کی پہلی اور جدید ترین پنجاب فلم سٹی تعمیر کرے گی۔ دعویٰ یہ ہے کہ اس منصوبے سے ملک میں فلم سازی کا وہ سنہرا دور واپس آ جائے گا جس کے قصے اب صرف لاہور پر لکھی گئی کتابوں میں ملتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو سال سے اِس منصوبے پر مشاورت جاری تھی اور اب کہیں جا کر یہ شاہکار اپنی حتمی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اِس 50 ایکڑ کی فلم سٹی میں عالمی معیار کے اسٹوڈیوز، ساؤنڈ اسٹیجز، جدید ترین وی ایف ایکس (VFX) اور پوسٹ پروڈکشن کی سہولیات اور شوٹنگ کیلئے اسٹوڈیوز اور ایک خوبصورت جھیل بھی ہوگی۔ صرف یہی نہیں بلکہ بین الاقوامی ایوارڈ تقریبات کیلئے ایک عظیم الشان کنونشن ہال، میڈیا ٹریڈ حب، فلم اور میوزک اسکول، فائیو اسٹار ہوٹل اور ایک تفریحی مرکز (Entertainment District) بھی بنایا جائیگا۔ یہ سب پڑھ کر ایک لمحے کیلئے تو مجھے یوں لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں کہ اسٹیفن سپیلز برگ ہیرا منڈی کے پھیرے لگا رہے ہیں کہ وہاں سے کوئی ماہر طبلہ نواز بلوا کر فلم کیلئے پس پردہ موسیقی ترتیب دی جا سکے، ٹام کروز شاہدرہ کے پل سے دریائے راوی میں چھلانگ لگا کر ایکشن سین ریکارڈ کروا رہے ہیں اور جیمز کیمرون اپنی فلم ’ایواتار پارٹ 2‘ پنجاب فلم سٹی کی مصنوعی جھیل کے کنارے پر شوٹ کر رہے ہیں۔

سچ پوچھیں تو ایسے اعلانات سن کر کبھی کبھی دل میں خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں اور یہ خدشات بے جا نہیںلیکن مجھے یقین ہے کہ فلم سٹی بنے گا ۔ ایک زمانے میں ’نیشنل فلم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن‘ (NAFDEC) یعنی نیفڈیک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اُس کا بنیادی تصور بہت شاندار تھا کہ ہالی وڈ کی کمرشل اور کچرا فلموں پر پابندی لگائی جائے اور انکی جگہ مشرقی یورپ اور سوویت یونین کی اعلیٰ پائے کی آرٹ فلمیں پاکستان لائی جائیں۔ اِس سے پاکستانی شائقین کا ذہنی اور فکری معیار بلند ہوگا اور وہ بہتر فلمیں دیکھنے کی طرف مائل ہوں گے جس سے خود بخود فلمی صنعت ترقی کرے گی۔ آئیڈیا برا نہیں تھا۔ جب آپ اعلیٰ پائے کی شاعری پڑھتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں، اُس وقت آپ کو پتا چلتا ہے کہ اے کلاس اور تھرڈ کلاس آرٹ میں کیا فرق ہے۔ اِسی تصور کو لے کر نیفڈیک نے ایک فلم کلب کا بھی آغاز کیا، یہ کلب اعلیٰ معیار کی غیر ملکی فلمیں (وہ بھی بغیر سنسر کے) دکھاتا تھا اور فلم کے اختتام پر باقاعدہ فکری نشستیں اور مباحثے ہوا کرتے تھے جن میں فلم کی کہانی، اس کی سینماٹوگرافی اور فلسفے پر بات کی جاتی تھی۔ یوں لگتا تھاجیسے اب پاکستان میں بھی ستیہ جیت رائے، آکیرا کروساوا اور آندرے تارکووسکی جیسے ہدایت کار پیدا ہوں گے اور شعیب منصور دوبارہ جنم لے گا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے۔ ملک میں سیاسی حالات نے پلٹا کھایا اور ثقافتی اصلاحات کا یہ سارا شاندار اور فکری نظام ریت کے محل کی طرح بکھر گیا اور ہم ایک بار پھر ہالی وڈ کی کچرا فلموں کے ڈبے میں گھس گئے اور رہی سہی کسر گنڈاسے نے پوری کر دی۔

گنڈاسہ کلچر اپنی جگہ مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اُس زمانے میں صرف لاہور میں سال بھر میں ڈیڑھ دو سو فلمیں بنتی تھیں، سارک ممالک کے اداکار ان فلموں میں کام کرتے تھے، مشترکہ پروڈکشنز ہوتی تھیں، مگر یہ بات اب قصہ پارینہ بن گئی۔ اِس زوال کی وجہ صرف گنڈاسہ نہیں۔ میرے پسندیدہ اداکار اشرف خان ایک واقعہ سناتے ہیں کہ لاہور میں کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی، رونق لگی ہوئی تھی، اداکارائیں سیٹ پر چہلیں کر رہی تھیں، ایسے میں کسی چھوٹے سے فنکار نے پروڈیوسر سے اپنے کام کے پیسے مانگنے کی جرات کی، جواب میں پروڈیوسر نے کہا ”کیہڑے پیہے، دے داں گے!“ (کون سے پیسے، دے دیں گے!)۔ اشرف خان نے یہ بات سنی تو پروڈیوسر سے کہا ”آج لاہور میں یہ چہل پہل دیکھ رہے ہو؟ خدا اِس شہر کی رونقیں سلامت رکھے مگر میرے منہ میں خاک، یہ رونقیں نہیں رہیں گی، یہ سب پرندے یہاں سے اُڑ جائیں گے اور اُس کی وجہ تم جیسے پروڈیوسر ہوں گے جو فنکاروں کو اُن کا معاوضہ نہیں دیتے۔“ اُن کی یہ بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ سو، مجھے اس میں شک نہیں کہ پنجاب فلم سٹی نہیں بنے گا، مجھے ڈر یہ ہے کہ یہ عظیم الشان منصوبہ کہیں گنوار پروڈیوسرز اور ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے سرکاری افسران کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ ایسا ہی ایک افسر فلم سینسر بورڈ کاچیئرمین تھا، ایک فلم سینسر کیلئے پیش ہوئی، فلم دیکھنے کے بعد اُس نے ہدایتکار کو بلایا اور کہا کہ ”فلم بہت اچھی ہے، ہم نے بخوشی پاس کر دی ہے، مگر ہیرو کے بال ذرا لمبےہیں، بس وہ چھوٹے کروا دیں“۔ اب اگر ایسا ہی کوئی بزرجمہر پنجاب فلم سٹی کاچیئرمین بن گیا تو فلم سٹی کا وہی حال ہوگا جو نیفڈیک کا ہوا تھا۔حل اِس کا وہی ہے جو برطانیہ نے کیا۔ وہاں برٹش فلم انسٹی ٹیوٹ (بی ایف آئی) نامی تقریباً سو سال پرانا ایک خودمختار ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد فلم اور ٹیلی ویژن کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک خیراتی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے اور اپنا خرچ لاٹری سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پورا کرتا ہے۔ بی ایف آئی کی آرکائیوز میں لاکھوں کی تعداد میں فلمیں، دستاویزی فلمیں، ٹیلی ویژن شوز اور شارٹ فلمیں محفوظ ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اِس آرکائیو کا مقصد نہ صرف ماضی کے سینما کو محفوظ رکھنا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے ثقافتی اور تاریخی ورثے تک رسائی حاصل کر سکیں۔ بی ایف آئی میں باقاعدگی سے کلاسک اور غیر ملکی زبانوں کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ یہ ہر سال دنیا کے مشہور ترین فلمی میلوں میں سے ایک ’بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول‘ کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ فلموں کی نمائش اور حفاظت کے ساتھ ساتھ، بی ایف آئی برطانوی فلم انڈسٹری کی مالی معاونت بھی کرتا ہے۔ یہ ادارہ نئے اور ابھرتے ہوئے برطانوی فلم سازوں کو نیشنل لاٹری فنڈز کے ذریعے گرانٹس فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑی سکرین پر لا سکیں۔ امید ہے کہ یہ تمام کام پنجاب فلم سٹی میں بھی ہوں گے اور لاہور دوبارہ فلمی مرکز بنے گا۔ ’تھا یقین کہ آئے گی یہ راتاں کبھی!‘

تازہ ترین