• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا انسانوں کی جگہ مشینیں لے رہی ہیں؟ جاپان ایئر لائنز کا ہوائی اڈوں پر ہیومنائیڈ روبوٹس کا استعمال

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

جاپان ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ ٹوکیو کے ہنیدہ ایئر پورٹ پر زمینی آپریشنز کے لیے ہیومنائیڈ روبوٹس استعمال کرے گی، یہ تجربہ آئندہ ماہ مئی 2026ء سے شروع کیا جا رہا ہے۔

یہ 2 سالہ آزمائشی منصوبہ کمپنی کے پارٹنر کے ساتھ مل کر شروع کیا جا رہا ہے، ابتدائی مرحلے میں روبوٹس کو کارگو کنٹینرز لوڈ اور ان لوڈ کرنے کے کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ایئر لائن کے مطابق اس وقت تقریباً 4 ہزار افراد پر مشتمل زمینی عملہ کام کر رہا ہے اور روبوٹس کا مقصد ملازمین کی مدد کرنا ہے نہ کہ انہیں مکمل طور پر تبدیل کرنا۔

جاپان کی ایوی ایشن انڈسٹری اس وقت شدید لیبر شارٹیج کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات میں بڑھتی ہوئی سیاحت اور تیزی سے کم ہوتی ورکنگ ایج آبادی شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف رواں سال کے پہلے 2 ماہ میں جاپان میں 7 ملین سے زائد غیر ملکی سیاح پہنچے۔

کمپنی کے صدر توموہیرو اوچیڈا کے مطابق اگرچہ ایئر پورٹس بظاہر جدید اور خودکار دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے اب بھی بڑی حد تک انسانی محنت درکار ہوتی ہے اور عملے کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

جاپان ایئر لائنز کی گراؤنڈ سروسز کے سربراہ یوشیٹرو سوزوکی نے کہا ہے کہ روبوٹس کو جسمانی طور پر مشکل کاموں کے لیے استعمال کرنا ملازمین کے لیے فائدہ مند ہو گا، تاہم کچھ ذمے داریاں اب بھی صرف انسان ہی انجام دے سکتے ہیں۔

فی الحال جاپانی ایئر پورٹس میں روبوٹس پہلے ہی سیکیورٹی اور ریٹیل جیسے کاموں میں استعمال ہو رہے ہیں، لیکن ہنیدہ ایئر پورٹ کا یہ منصوبہ براہِ راست زمینی آپریشنز میں ہیومنائیڈ روبوٹس کے استعمال کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہو گا۔

خاص رپورٹ سے مزید