ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز کو انتہائی حساس انفرااسٹرکچر قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ آبی گزرگاہ ڈیجیٹل دنیا کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے، 97 فیصد سے زیادہ انٹرنیٹ ٹریفک آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو مغربی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء اور افریقا میں خطے کے ڈیٹا سینٹرز کی ایک بڑی تعداد کو یورپ سے جوڑتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی فائبر آپٹک کیبلز روزانہ کی بنیاد پر 10 ٹریلین ڈالرز سے بھی زیادہ کی ٹرانزیکشن کا ذریعہ ہیں۔
سیلیکون ویلی میں موجود مشہور ٹیک کمپنیوں کے ڈیٹا سینٹرز جیسا کہ ایمازون ویب سروسز، اوریکل، مائیکرو سافٹ، اوپن اے آئی اور خلیجی معیشتوں جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور بحرین میں موجود دیگر ہائپر اسکیل اے آئی انفرااسٹرکچرز بھی انہی کیبلز پر انحصار کرتے ہیں۔
کسی بھی طرح کے حملوں کے دوران انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچا تو ڈیٹا ٹریفک سست اور مہنگا ہو جائے گا۔
اگرچہ سمندر میں موجود انٹرنیٹ کیبلز کی مرمت اتنی مشکل نہیں ہے لیکن ایک بار انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچ جائے تو جنگ کے دوران ان کی مرمت کرنا کافی مشکل ہو گا اور جان بوجھ کر انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچانا، بارودی سرنگوں کی موجودگی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کی صورتِ حال اسے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2024ء کے آخر میں جب حوثیوں نے برطانوی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا تو ایشیاء، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان 25 فیصد ڈیٹا ٹریفک متاثر ہوا تھا۔