آج اس دنیا میں ہر جگہ ظلم ا ور نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ پچھلے چار عشروں میں امریکہ اور مغرب نے ایران کو کرہ ارض پہ برائی کی جڑ قرار دیا۔ ایرانیوں پہ بے تحاشا معاشی پابندیاں عائد کیں۔ اقوامِ عالم نے ایران کے ساتھ لین دین ختم کر دیا ۔ اپنی طرف سے انہوں نے ایران کو بھوکا ننگا کر کے مار ہی دیا تھا۔ یہ تو ایرانیوں کی سخت جانی تھی ، جس نے انہیں ان حالات میں زندہ رہنے کی طاقت بخشی ۔ اسرائیل جیسا ملک بھی خود کو انسانیت کا علمبردار اور ایران کو دہشت گرد ملک قرار دیتاہے ۔ یہ بات درست ہےکہ ایران نےپراکسی جنگیں لڑیں لیکن کیا ایسا صرف ایران نے ہی کیا ؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں فساد کی اگر کوئی جڑہے تو وہ اسرائیل ہے ۔ وہ مسلمان ممالک جوامریکہ کے اتحادی رہے انکو کیا کہا جائے ؟ ۔ جنگ کے دوران اسرائیل جیسا ملک اگر کسی مسلمان ملک کو آئرن ڈو م میزائل شکن نظام مرحمت کرے تو خود ہی حساب لگا لیں کہ ان کے تعلقات کی کیا نوعیت ہوگی۔
غزہ میں پچھلے تین برس میں جو کچھ ہوا ، عالمِ اسلام اس پہ گنگ بیٹھا رہا ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہ 7اکتوبر 2023ء کو حماس اسرائیل پہ حملہ کرتی اور نہ اسرائیل غزہ کو کھنڈر بناتا۔ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ 7اکتوبر سے پہلے کچھ ہوا ہی نہیں ۔وہ ایسے مطمئن ہیں ، جیسے 7اکتوبر سے پہلے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔
ایسا لگتاہے ، جیسے شیطان نے چھو کر ان لوگوں کو حواس باختہ کر دیا ۔ 7اکتوبر سے پہلے کی کوئی بات انہیں یاد ہی نہیں ۔ پچھلے 78برس میں کیسے مسلسل زمین کے ٹکڑے چھینے جا تے رہے ۔ کیسے اسرائیل پھیلتا چلا گیا۔ کیسی کیسی بمباریاں ہوئیں ۔جو لوگ کبھی اس زمین کے مالک تھے، کیسے وہ کسمپرسی کی زندگیاں جی رہے ہیں ۔ اب تو مغرب میں بھی انصاف پسند لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ غزہ درحقیقت کرـہ ارض کی سب سے بڑی جیل ہے ۔ایک دکھ دینے والے عذاب کی طرح ،زندگی یہاں موت سے بدتر ہے ۔
مغربی کنارے کے ساتھ کیا ہوا؟ وہ لوگ جنہوں نے اسرائیل پہ 7اکتوبر جیسا کوئی حملہ نہیں کیا ۔ وہ لوگ جو اسرائیل کے ساتھ ہر ممکن سمجھوتہ کر چکے ہیں ۔جو حماس کے مخالف ہیں ، کیا انہیں بخش دیا گیا۔ آج اسرائیل مغربی کنارے کو نگلتا چلا جا رہا ہے ۔بات یہاں پہ رکے گی نہیں ۔ اسرائیل کا پورے مشرقِ وسطیٰ پر کلیم ہے ۔اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو خدا نے یہ حق بائبل میں دیا ہے کہ وہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک اپنی سرحدیں پھیلاسکتاہے ۔
اس کا مطلب ہے کہ پورا مشرقِ وسطیٰ اسرائیلیوں کا ہے ۔ مقامی عربوں کو وہاں سے کب نکالا جائے گا؟ اس کا تعین وقت کرے گا ۔ اگر اسرائیل آسانی سے مغربی کنارااور غزہ نگل گیا تو آگے کی طرف اس کی توسیع شروع ہو جائے گی ۔ یاد رکھیں کہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا بیان کوئی انتہا پسند جماعت نہیں دے رہی بلکہ اسرائیل میں امریکہ کا سفیر دے رہا ہے ۔ٹرمپ کا منصوبہ تو یہ تھا کہ غزہ کے باسیوں کو مصر اور دوسرے ہمسایہ ممالک میں منتقل کر دیاجائے ۔ وہ فلک شگاف عمارتوں والا ایک کاروباری اور سیاحتی مرکز بن جائے
گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے
جو بات وہ کہہ نہیں سکے وہ یہ تھی کہ بیچ میں میرا خاندان بھی ایک دو ارب ڈالر کی دیہاڑی لگا لے گا۔ کوئی شک نہیں کہ دنیا ایک بڑے تغیر سے گزر رہی ہے ۔ یہی کیا کم تبدیلی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے تباہ ہو ئے ۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم اب ماضی کا قصہ ہے ۔ ایران نے 45سال پابندیاں برداشت کیں ۔ پھر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک خونخوار جنگ بھی لڑ ی ۔اب امریکہ اس خطے میں اپنے نئے اڈے تعمیر کرتے ہوئے سو مرتبہ سوچے گا۔ کچھ مسلمان ممالک قطار میں لگے رہے کہ کسی طرح اپنےاپنے عوام کے غم و غصے سے بچ کر ابراہیم اکارڈ میں شامل ہو جائیں۔ غزہ سے ہماراکیا لینا دینا۔ یہ ابراہیمی اکارڈ کی تپش ہی تھی، جسکی وجہ سے حماس نے 7 اکتوبر کا حملہ کیا۔
ایران جنگ سے پہلے ایک دفاعی تجزیہ کار سے سوال کیا : ایران کا کیا بنے گا۔ انہوں نے جواب دیا : ایران پانچ ہزار سال پرانی تہذیب ہے۔ اپنا دفاع کر لے گی۔ باقی ان ممالک کی فکر کرو جو امریکی اتحادی ہیں۔ ایران نے جنگ اس دلاوری سے لڑی کہ موزوں الفاظ نہیں سوجھتے ۔ ایک جنرل شہیدہوتا تودوسرا آگے بڑھ کر پرچم پکڑ لیتا ۔جو لوگ امریکہ او راسرائیل کے بہی خواہ ہیں ، مرنا تو انہوں نے بھی ہے۔ قرآن کہتاہے : تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو۔النساء 78۔
گزشتہ چند دہائیوںمیں بڑی لیپا پوتی کی گئی ہے۔ عیسائی مما لک کے سربراہ امریکہ کو مسلم دنیا نے دوست ہی نہیں ، گویا سرپرست تسلیم کر لیا۔ اسرائیل کو کئیوں نے تسلیم کر لیا۔ باقی بھی اس راہ پر چل نکلے۔ اگر کوئی اس پر اعتراض کرتا تو اسے بتایا جاتا کہ دنیا بدل گئی ہے ۔ تم پرانے زمانوں میں زندہ ہو۔
یہ سب ان کی غلط فہمی ہے ۔ بدلا کچھ بھی نہیں ۔ بظاہر ا نسان نے تھری پیس سوٹ اور ٹائی پہن لی ہے۔ دل اسی طرح وحشیانہ جبلتوں سے بھرپور ہیں۔ حالیہ عشروں میں لیبیا، عراق، شام اور فلسطین سمیت کتنے ہی ملک تباہ کر دیے گئے۔ قرآن کہتاہے : اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنا ؤ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دلی دوستی رکھے گا تو وہ ان ہی میں سے ہوگا یقیناً اللّٰہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ سورء المائدہ 51۔
اس کے باوجود ہمیں خوش فہمیاں ہیں۔ خوش فہمیوں کی اس جنت میں کب تک ہم محوِ خواب رہیں گے ۔ کب تک؟