• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوریا سے ایران تک امریکا کی 76 برس میں 5 بڑی جنگیں، 15983 کھرب روپے کا خدشہ

کراچی (رفیق مانگٹ) کوریا سے ایران تک امریکا کی 76برس میں پانچ بڑی جنگیں، 15983 کھرب روپے کا خرچہ، ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی ہلاک، 44لاکھ 79ہزار سویلین مارے گئے، سب سے زیادہ امریکی فوجی 58220 ویتنام جنگ میں ہلاک ہوئے، ایران جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی مارے گئے، عراق جنگ، 4431 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں3لاکھ شہری ہلاک 68شہری فی فوجی، افغانستان، 2461 فوجیوں کے مقابلے میں ایک لاکھ 76ہزار شہری ہلاک72شہری فی فوجی، کاسٹ آف وار پراجیکٹ 2001کے بعد جنگیں،9لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک، ایران جنگ کے معاشی اثرات، 77کھرب روپے، اضافی بوجھ، فی گھرانہ 200ڈالر ، ایندھن 40فی صد مہنگا ہوا۔ امریکی قیادت میں گزشتہ 76برسوں کے دوران لڑی جانے والی جنگوں نے نہ صرف عالمی سیاست کو تشکیل دیا بلکہ انسانی جانوں اور مالی وسائل کے اعتبار سے بھی بھاری قیمت وصول کی۔ الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق کوریا جنگ سے لے کر حالیہ ایران جنگ تک لاکھوں شہری ہلاک اور کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ حالیہ تنازع اس رجحان کو مزید تیز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی افغانستان جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ثابت ہوئی، جس میں تقریباً 8 لاکھ 32 ہزار امریکی فوجی تعینات رہے۔ اس 20 سالہ جنگ کے دوران 2,461 امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 20 ہزار زخمی ہوئے، جو اس طویل عسکری مہم کی شدت اور انسانی قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق 28 فروری سے اب تک ہونے والے حملوں میں کم از کم 3,375 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی فوج کے مطابق اس دوران اس کے 13 اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو 1950 کی دہائی سے اب تک امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں میں شہری ہلاکتوں کا تناسب فوجی ہلاکتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا ہے۔ یہ رجحان جنگی حکمت عملیوں کے شہری آبادی پر گہرے اثرات کو واضح کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق عراق جنگ (2003–2011) میں 4,431 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے مقابلے میں تقریباً 3 لاکھ شہری مارے گئے، یعنی ہر ایک امریکی فوجی کے بدلے اوسطاً 68 شہری جان سے گئے۔ اسی طرح افغانستان جنگ میں 2,461 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 1 لاکھ 76 ہزار شہری ہلاک ہوئے، جہاں یہ تناسب 72 شہری فی فوجی رہا۔ ویتنام جنگ (1955–1975) اور کوریا جنگ (1950–1953) میں بھی شہری ہلاکتوں کی تعداد انتہائی زیادہ رہی۔ ویتنام میں 58,220 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 20 لاکھ شہری ہلاک ہوئے، جبکہ کوریا میں 36,574 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں بھی تقریباً 20 لاکھ شہری مارے گئے، جو جنگوں کے تباہ کن انسانی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے بھی یہ جنگیں امریکہ کے لیے بے حد مہنگی ثابت ہوئیں۔ عراق جنگ پر تقریباً 5575 کھرب روپے( 2 ٹریلین ڈالر) خرچ ہوئے، جس میں یومیہ اوسط خرچ ایک کھرب 90 ارب روپے (684 ملین ڈالر) رہا،جبکہ افغانستان جنگ پر 6411 کھرب روپے( 2.3 ٹریلین ڈالر) خرچ ہوئے اور اس کا یومیہ اوسط 315 ملین ڈالر رہا۔

اہم خبریں سے مزید