پشاور ( آن لائن ) پشاور میں وفاق سے مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزیر اعلی کے پی کے سہیل افریدی نے کہا ہے کہ نا کامی پر اسلام آباد مارچ کریں گے، لویہ جر گے میں ڈرون حملوں سے شہاد توں کےواقعات کی مذمت ،مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی سربراہی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں لویہ جرگہ ہوا، جس میں مسلسل ڈرون حملوں اور بدامنی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل پر تفصیلی غور اور مشاورت کی گئی۔ جرگے میں قبائلی اضلاع اور صوبے کے حقوق پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور ان کے حصول کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ جرگہ میں قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندے اور مشران، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اسمبلی، علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ لویہ جرگہ میں ڈرون حملوں میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی شہادت کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ جرگہ کے تمام شرکاء نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا جس پر جرگہ سفارشات کی روشنی میں وزیر اعلی نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لویہ جرگہ میں شرکت کے لیے آنے والے اراکین کے ساتھ چیک پوسٹوں پر روا رکھے گئے ناروا سلوک پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ چیک پوسٹس پر یہی رویہ عوام میں بے چینی اور نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لویہ جرگہ اراکین نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک مختصر جرگہ تشکیل دیا جائے گا جو وفاقی حکومت و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا اور امن تک واپسی نہیں ہوگی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سے ڈرون اٹیکس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ شرپسند عناصر نے ملاکنڈ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیاہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں اگر آج عوام نہ اٹھے تو امن کا خواب پورا نہیں ہوگا۔