• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران تنازع: جنگ کے بعد ٹرمپ کی سیاسی و معاشی مشکلات بڑھ گئیں

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ایران کے ساتھ جاری طویل تنازع کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرونی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے سیاسی ومعاشی مشکلات اور دباؤ کا سامنا ہے، جب کہ جنگ کے اعلان کردہ اہداف اب تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا موثر کنٹرول، تیل کی قیمتوں پرمنفی اثر، افزودہ یورینیم بھی ایران کے پاس ہے۔ ایرانی قیادت طویل کشمکش کی حکمت عملی پر عمل پرپیرا ہے،امریکا کیلیے جنگ کااخراجی راستہ باقی نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ اب منجمد جنگ بنتی چلی جا رہی ہے جس میں نہ امن اور نہ ہی جنگ کی کیفیت غالب ہے، اورکسی واضح سفارتی یا فوجی حل کا فوری امکان نظر نہیں آتا، ماہرین کے مطابق دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس کشیدگی نے نہ صرف خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول نے توانائی کی عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی حالیہ مذاکراتی پیشکش مسترد کر دی ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلہ بدستور برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں کسی واضح سفارتی یا فوجی حل کا فوری امکان نظر نہیں آتا۔تنازع کے تسلسل سے امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ کر 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں، جس سے ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی پر انتخابی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ایک سینیئر تجزیہ کار کے مطابق جنگ کے غیر حل شدہ رہنے سے ٹرمپ کو وہ سیاسی فائدہ نہیں مل سکا جس کی توقع کی جا ر ہی تھی، بلکہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے عالمی توانائی منڈی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید