کراچی (جنگ نیوز) — برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ بعض حالات میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے، کیونکہ ان کا یہ “مجموعی اثر” یہودی برادری پر پڑ رہا ہے۔ یہ بیان انہوں نے بدھ کے روز لندن میں دو یہودی افراد پر چاقو سے حملے کے واقعے کے بعد دیا۔اسٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ وہ اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے حق کا ہمیشہ دفاع کریں گے، تاہم مظاہروں کے دوران “گلوبلائز دی انتفاضہ” جیسے نعرے “بالکل ناقابلِ قبول” ہیں اور ایسے نعرے لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے لندن میں فلسطین کے حق میں مظاہرے معمول بن چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بعض مواقع پر یہ یہود مخالف جذبات (اینٹی سیمیٹزم) کا باعث بنے ہیں۔ دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال سے متعلق انسانی حقوق اور سیاسی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں۔