عوام و خواص نے پولیس کے کردار، فطرت، اور اطوار کے بارے مختلف آراء قائم کر رکھی ہیں جن میں پیشتر میں ان کی تذلیل کا پہلو نمایاں ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر پولیس اہلکار شیطانیت کی نمایندگی کرتا ہے بلکہ انہی میں موجود فرشتہ خصلت اہلکار اس بدبودار ماحول میں خوشبو کا جھونکا بھی ہوتے ہیں جن کی پاکیزگی کی تصدیق فرشتے کرتے ہیں۔لیکن اس جرم کے اعتراف میں کوئی عار نہیں ہونی چاہئے کی پولیس اور انتظامی ڈھانچوں کو رشوت، کرپشن اور بد عنوانی کی اندھیروں میں جھونکنے کی تمام تر ذمہ دار خود سیاسی حکومتیں ہیں۔
اگرچہ کچہری کلچر انصاف کے قتل میں اہم کردار ادا کرتا لیکن تھانہ کلچریہ تو درست ہےسیاسی حکومتیں پولیس، انتظامیہ اورتحقیقاتی اداروں کے ذریعے اپنے کاروبار سلطنت چلاتی ہیں اور انہی کے ذریعے قانون پر عملدرآمد بھی کرتی ہیں لیکن یہاں امن اور جرائم کی روک تھام کی تجارت ہوتی ہے جو حکومت کی سمجھ سے بالاتر ہوتی لیکن یہ "ناسمجھی" عوام کو بیوقوف بنانے کے حوالے سے کافی سودمند ہوتی ہے جس سے حکومتوں کو سیاسی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
اب تو حالات اس حد تک گر چکے ہیں کہ ہر سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی پسند اور موافق بیوروکریسی خصوصاً پولیس اور سول سروسز کے آفیسرز پر مشتمل گروہ یا گروپ بنا رکھے ہیں جو ان پارٹیوں کے اقتدار میں آنے پر اپنی مرضی کے منصب حاصل کرتے ہیں اور کھلے عام "ذاتی مفادات کی تجارت" کرتے ہیں۔جو صرف کاغذوں پر ملک میں امن و امان اور جرائم کی روک تھام کرکے حکومت کو مطمئن کرتے ہیں۔
اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے لئے میرٹ نہیں بلکہ من پسند یا موافق آفیسرز کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کے لئے اعلیٰ تربیت یافتہ، تعلیم یافتہ، اعلیٰ اقدار سے آگاہ ہونا یا پیشہ ور ماہر ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف "یس سر" مین ہونا ہی میرٹ کا اہم ترین تقاضہ ہے ۔شائد ہی کوئی ایسا پولیس یا انتظامی افیسر ہو جو پولیٹسائز نہ ہو اور میرٹ پر کسی ذمہ دار منصب پر فائز ہو۔سیاسی حکومتوں کی ان منفی پالیسیوں کے نتیجے میں بے شمار پولیس آفیسرز حکمرانوں کی ذاتی پسند نا پسند کی بھینٹ چڑھ کر خاموشی کے ساتھ اپنی مدت ملازمت مکمل کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ریاستی اداروں کی مضبوطی کسی بھی ملک کے استحکام، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ خصوصاً قانون نافذ کرنے والے ادارے، تحقیقاتی ایجنسیاں اور آپریشنل فورسز کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان اداروں کے سربراہان کی تعیناتی میرٹ کے بجائے سیاسی وفاداری، ذاتی مفادات یا وقتی حکومتی ترجیحات کی بنیاد پر کی جائے تو اس کے نتائج نہ صرف اداروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں یہ رجحان بارہا دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں اہم عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کرتی ہیں جو پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے سیاسی وابستگی یا ذاتی قربت کی بنیاد پر منتخب کیے جاتے ہیں۔ کئی صوبوں میں آئی جی پولیس کے عہدے پر تعیناتی اور تبادلے سیاسی بنیادوں پر ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض ادوار میں ایک ہی سال کے اندر متعدد آئی جیز تبدیل کیے گئے، جس سے نہ صرف پالیسیوں میں تسلسل ختم ہوا بلکہ فورس کے اندر عدم استحکام بھی پیدا ہوا۔ ایسے افسران جو پیشہ ورانہ مہارت رکھتے تھے، انہیں محض اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ سیاسی دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ قومی احتساب یا تحقیقاتی اداروں میں اکثر ایسے افسران کو تعینات کیا گیا جن پر یہ الزام لگا کہ وہ مخصوص سیاسی شخصیات کے خلاف مقدمات کو تیز کرتے ہیں جبکہ دیگر کے خلاف سست روی اختیار کرتے ہیں۔ اس سے ادارے کی غیر جانبداری مشکوک ہو جاتی ہے۔ بعض مواقع پر سینیارٹی لسٹ میں نیچے موجود افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا، جبکہ زیادہ تجربہ کار اور اہل افسران کو نظرانداز کیا گیا۔ اس عمل نے ادارے کے اندر بددلی، مایوسی اور گروہ بندی کو جنم دیا۔ بعض حکومتیں کلیدی عہدوں پر “ایکٹنگ” یا عارضی بنیادوں پر ایسے افراد کو تعینات کرتی ہیں جو مکمل اختیارات نہ ہونے کے باوجود حکومتی ہدایات پر زیادہ آسانی سے عمل کرتے ہیں۔
ادارے افراد سے نہیں بلکہ اصولوں سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب تک حکومتیں میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو ترجیح نہیں دیں گی، تب تک ادارے کمزور اور متنازعہ ہی رہیں گے۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ تعیناتیوں کا عمل سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو اور صرف قابلیت اور دیانت کو بنیاد بنایا جائے۔