کراچی( سید محمد عسکری ) تلاش کمیٹی کے ذریعے میرٹ پر مقرر ہونے والے ایک اور چیئرمین بورڈ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ اس طرح مستعفی ہونے والے بورڈز کی تعداد 2 ہو گئی ہے اس سے قبل حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین شجاع احمد مہسر نے بھی عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ گزشتہ شام میٹرک بورڈ کے چیئرمین غلام حسین سہو نے اپنا استعفیٰ سیکرٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ بورڈز و جامعات کی بے جا مداخلت کے باعث ایک اور چیئرمینبورڈ کے بھی مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت سندھ کے کچھ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو اینٹی کرپشن نے نتائج میں ردبدل اور افسران کی تعیناتی کے بدلے بھاری رقم دینے پر انھیں ریکارڈ سمیت طلب کر رکھا ہے حالانکہ بورڈز میں اہم عہدوں پر تعیناتی میں ان کی مرضی شامل ہی نہیں رہی اور گزشتہ چھ برس سے محکمہ بورڈز و جامعات کی مداخلت اور من پسند سفارشی افراد کی بطور کنٹرولر، سیکرٹری، آڈٹ افسر اور دیگر عہدوں پر تقرری سے نہ صرف بورڈز کی ساکھ خراب ہوئی بلکہ چیئرمین حضرات کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سہو نے اپنے استعفیٰ میں نے لکھا ہے کہ انھوں نے اپنے اصل ادارے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد واپسی کی درخواست کر دی ہے۔ چیئرمین کی جانب سے سکریٹری بورڈز و جامعات کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تقرر پر اعتماد کرنے پر سرچ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلسل ادارہ جاتی رکاوٹوں، اندرونی و بیرونی دباؤ اور پیشہ ورانہ خامیوں کے باعث ان کے لیے اپنی ذمہ داریاں اپنے ضمیر اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا چناچہ ایسے حالات میں عہدے پر برقرار رہنا مناسب نہیں اور بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے مستعفی ہو جائیں۔ چیئرمین نے درخواست کی ہے کہ انہیں اسلام آباد واپس بھیجا جائے جہاں وہ بطور ڈی ڈی جی (ایجوکیشن) اپنی خدمات جاری رکھ سکیں ۔ حیدرآباد بورڈ کے چیرمین شفیق احمد مہسر نے اپنا استعفیٰ 16 اپریل کو دیا تھا شفیق مہسر حیدرآباد بورڈ میں شفاف نتائج کے اجراء کے باوجود 4 ماہ تک معطل رہے اور مشکل سے بحال ہوئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ وزارت و محکمہ بورڈ و جامعات کی مسلسل مداخلت کے سبب ان کے اختلافات بڑھ گئے تھے گزشتہ برس ان کی چیئرمین شپ میں ہی انٹر سال دوئم اور دسویں جماعت کا نتیجہ جاری کیا گیا تھا جسے بورڈ کی 10 سالہ تاریخ کا شفاف ترین نتیجہ قرار دیا جارہا تھا۔ بعدازاں حیدرآباد بورڈ کے کچھ افسران کی جانب سے نویں اور گیارہوں جماعتوں کے نتائج میں جب تاخیر شروع کی گئی تو ان کی جانب سے ایک اسسٹنٹ کنٹرولر کا تبادلہ کردیا گیا اور مرضی کا بندہ اس کی جگہ لایا گیا۔تھا تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اس تبادلے کو رکوانے کے لیے درمیان میں آگیا ناصرف یہ کہ متعلقہ اسسٹنٹ کنٹرولر کا تبادلہ روکا گیا بلکہ نتائج میں تاخیر کا زمے دار چیئرمین بورڈ کو ٹہراتے ہوئے ان تقریبا 4 ماہ تک معطل رکھا گیا اور اس اثناء میں نویں جماعت کے نتائج جاری کیے گئے۔مستعفی ہونے والے چیئرمین پروفیسر شجاع احمد نے اپنے استعفے میں صرف دسویں اور بارہویں کے نتائج کو شفاف قرار دیا ہے جبکہ نویں اور گیارہوں کے نتائج جو ان کی معطلی کے دوران جاری ہوئے اس کا سرے سے زکر ہی نہیں کیا ۔