کراچی( سید محمد عسکری) تاریخی ورثہ قرار دیے گورنمنٹ کالج فار ویمن چاند بی بی روڈ کی لاکھوں روپے مالیت کی لوہے کی مظبوط اور بھاری گرل کباڑیے کو فروخت کرنے کے معاملے پر کالج کی پرنسپل ایسوسی ایٹ پروفیسر فخرالنساء کو عہدے سے ھٹا کر محکمہ کالج ایجوکیشن میں رپورٹ کرادیا گیا ہے جب کہ جونیئر کلرک منظور علی کو معطل کردیا گیا ہے اور سینئر کلرک عبدالغفور کا تبادلہ سٹی کالج اور جونیئر کلرک محمد شاہد کا تبادلہ پاکستان شپ اونر کالج شمالی ناظم آباد کردیا گیا ہے۔ کالج زرائع نے تصدیق کی ہے کہ جونیئر کلرک منظور علی انٹر نے اپنے دو ساتھیوں کی مدد سے 28 اپریل کی دوپہر تاریخی ورثہ قرار دیئے گئے کالج کی گرل کباڑیئے کو بلا کر کٹوا دی اور اسے 13 لاکھ روپے میں بیچ دیا جب کہ گرل باہر لے جانے کے لئے لیا گیا باقاعدہ پرنسپل کا جاری کردہ گیٹ پاس بھی ان کے پاس موجود تھا تاہم جب ساری گرل ٹرک پر منتقل کی جارہی تھی تو اطلاع ہو گئی جس پر ٹرک کو وہیں روک لیا گیا اور گرل اتار لی گئی۔ تاریخی کالج سے گرل چوری ہونے کے واقع کی اطلاع کا وزیر تعلیم سردار شاہ نے سخت نوٹس لیا اور سکریٹری کالجز فرخ شہزاد قریشی کو سخت کارروائ کرنے کی ہدایت کی۔ یاد رہے کہ گورنمنٹ کالج فار ویمن چاند بی بی روڈ کی اس عمارت میں جون 1951 میں جامعہ کراچی کا آغاز ہوا تھا بعد ازاں 1956 میں جامعہ کراچی نئے کیمپس میں منتقل ہوگئی تھی جس کے بعد اس عمارت میں گرلز کالج قائم کردیا گیا تھا۔