گزشتہ نو مئی سے اِس نو مئی تک ایک سال میں پاکستان نے عروج واقبال کا جو سفر طے کیا ہے ، یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ کسی بڑے سے بڑے تجزیہ کار کیلئے بھی گزشتہ مئی کی جنگ میں پاکستان کی فتح مبین سے پہلے تک اس کی پیش گوئی ممکن نہ تھی۔ یہی نہیں بلکہ اسکے بعد سے پاکستان کے حق میں ایسے غیرمتوقع واقعات کا ایک پورا سلسلہ جاری ہے جس سے لگتا ہے کہ مسلمانان برصغیر نے اقبالؒ کی فکری رہنمائی اور قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میںجس قادر مطلق کے نام پراور جس کے عطا کردہ نظام زندگی کے نفاذ کے وعدوں کے ساتھ یہ ملک حاصل کیا تھا، آٹھ دہائیوں بعد اُس نے اس ملک کو مسائل و مشکلات کی بھرمار اور مسکینی و عاجزی کے تسلسل سے نجات دینے اور عزت و قار کی بلندیوں پر پہنچادینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ان غیر متوقع واقعات کا ترتیب وار جائزہ لیا جائے تو یہ صورت سامنے آتی ہے کہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں پہلگام ڈرامے کے بعد پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کے دعووں کا جو طوفان مودی سرکار نے برپا کیا۔
اس سے پوری دنیا میں یہ تاثر عام ہوا کہ اب پاکستان کی خیر نہیں۔ لیکن بھارتی جارحیت کے بعدجذبہ جہاد و شہادت سے سرشار پاکستان کی فضائی اور زمینی افواج کی مربوط و منظم اورسائنٹفک چابکدستی پر مبنی جوابی کارروائی نے چار روزہ جنگ کے آخری مرحلے میں بھارت کو خاک چاٹنے اور جنگ بند کرانے کی خاطر صدر ٹرمپ سے درخواستیں کرنے پر مجبور کردیااور یوں عالمی سطح پر پاکستان کا ایسا دبدبہ قائم ہوا جسکے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر موسم کے دوست عوامی جمہوریہ چین کے لڑاکا جہازوں اور ہتھیاروں کی مقبولیت دنیا بھر میں بے پناہ بڑھ گئی کیونکہ انہیں ہمارے ماہرین نے ایسی ذہانت اور خوبصورتی سے استعمال کیا تھا کہ خود چینی بھی حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ پھرجنگ کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی متاثر کن اور مدلل سفارت کاری نے عالمی برادری میں بھارت کی مزید رسوائی اور تنہائی کا سامان کیا۔ امریکی صدر نے ہر محفل میں بھارت کا مذاق اڑانے اور پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی بہادری، مہارت اور بصیرت کاکھلے دل سے اعتراف کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جس نے امریکہ بھارت تعلقات پر شدید منفی اثر ڈالا جبکہ پاکستان سے وائٹ ہاؤس کے رابطے مضبوط ہوتے گئے۔
جنگ مئی کے چند ہفتوں بعد جون کے وسط میں امریکہ نے ایران پر اسرائیل کی ملی بھگت سے جنگ مسلط کی تو پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ عملی تعاون کے ذریعے اسرائیل کو شدید زک پہنچاکر ایرانیوں کے دل جیت لیے جبکہ بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنیوالے ایران پر نئی دہلی کی منافقت پوری طرح کھل گئی۔ حیرت انگیز بات یہ کہ ایران کی یہ کھلی حمایت امریکہ سے روابط میں کسی کمی کا سبب نہیں بنی۔ اس کے بعد گزشتہ ستمبر میں اسرائیل نے شرقِ اوسط میں امریکہ کی اہم اتحادی ریاست قطر پر حملہ کرکے خلیجی ممالک کو اپنے دفاع کے حوالے سے امریکہ پر اعتبار کو بری طرح مجروح کردیا۔اس واقعے نے عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے کی راہ ہموار کردی جس سے خطے میں پاکستان کی اہمیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ اس کے بعدرواں سال فروری کی آخری تاریخ سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جو مشترکہ حملے کیے اور ایران نے اس کے جواب میں جو تباہ کن کارروائی کی، پاکستان بالکل غیر متوقع طور پر ان حالات میں بین الاقوامی منظر نامے پر امن کے علم بردار ایسے ثالث کے طور پر ابھرا جو معاملے کے تمام فریقوں بلکہ پوری عالمی برداری کے اعتبار کا حامل ہے۔عالمی ادارے جس معاملے میں عضو معطل بنے رہے اس میں پاکستان کی ثالثی نے اقوام عالم میں پاکستان کا مقام اتنا بلند کردیا ہے جس کا کوئی تصور بھی اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ نیز امریکہ ایران جنگ کے دوران خلیجی ملکوں میں امریکی اڈوں کے نشانہ بننے کی وجہ سے پاکستان کیلئے بے پناہ امکانات کے دروازے جس طرح کھلے ہیں، وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ خلیجی ملکوں کا غیر محفوظ ہوناثابت ہوجانے سے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کی اہمیت کا اچانک بڑھ جانا،ان ملکوں سے سرمایہ کاری کے پاکستان منتقل ہونے کے امکانات کا روشن ہوجانا، پابندیوں کے باوجود ایران کو پاکستان کے راستے تجارت کی سہولت کا فراہم کردیا جانا، چاہ بہار کی بندرگاہ کے ذریعے گوادر کو ناکام بنانے کی بھارتی سازش کا خاک میں مل جانا ،یہ سب یقینا ً معمول کے اسباب کا نتیجہ نہیں تھا۔پاکستان کے حق میں پے در پے رونما ہونے والے ان غیرمتوقع واقعات کو کیا محض اتفاق قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس کے مقابلے میں یہ مؤقف کہیں زیادہ قابل فہم ہے کہ یہ واقعات خالق کائنات کے اس ارادے کی نشان دہی کرتے ہیں جس کے تحت پاکستان کو دنیا کی بہتری کی خاطر اہم قائدانہ کردارادا کرنا ہے اور جس کی پیشین گوئیاں عشروں اور صدیوں سے مختلف اہل حق کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اس تناظر میں وقت کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری سیاسی و عسکری قیادت بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے قائدین بھی پاکستان کو اس مقصد کی خاطر تیار کرنے کیلئے گھر کو درست کرنے کی بھی فکر کریں جسکی ضرورت کانسٹیٹیوشن ایونیو اسکینڈل نے پوری طرح واضح کردی ہے ۔قوم کی اخلاقی بنیادیں مضبوط کی جائیں، کرپشن کے بجائے دیانت داری اور عدل و انصاف کا راج ہو،قانون کا نفاذ امیر و غریب ، طاقتور اور کمزور سب پر یکساں ہو، تعلیم ارزاںاور معیار بلند کیا جائے، رشوت اور سفارش ختم ہو اور ہر سطح پر میرٹ ہی آگے بڑھنے کا واحد لازمہ قرار پائے۔ یہ تقاضے پورے ہوجائیں تو ان شاء اللہ پاکستان رہتی دنیا تک عالمی منظر نامے پر قائدانہ کردار کے ساتھ چمکتا دمکتا رہے گا۔