جنوبی ایشیا شاید دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں تاریخ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ یہاں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ہوتیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہیں۔ یہاں نفرت صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ یہاں بچے کتابوں سے پہلے دشمنوں کے نام سیکھتے ہیں۔ ایک طرف غربت ہے، بھوک ہے ،بے روزگاری ہے، ٹوٹتے ہوئے ہسپتال ہیں، بجھتی ہوئی صنعتیں ہیں اور دوسری طرف میزائل ہیں، جنگی ترانے ہیں اور ٹی وی اسکرینوں پر چیختے ہوئے اینکر ہیں جو ہر رات جنگ کو ایک تماشے کی طرح پیش کرتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان امن کیوں چاہتا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بھارت امن کی طرف پوری طرح کیوں نہیں جانا چاہتا۔پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی ترقی جنگ میں نہیں بلکہ استحکام میں ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ مسلسل کشیدگی صرف سرحدوں کو نہیں جلاتی بلکہ معیشتوں کو بھی تباہ کرتی ہے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے امن کوئی رومانوی خواب نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اکثر مذاکرات، تجارت، علاقائی روابط اور سفارتی استحکام کی بات کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا مسلسل جنگی ماحول میں جکڑا رہا تو یہاں کی نئی نسل کبھی ترقی نہیں کر سکے گی۔لیکن دوسری طرف بھارت کا سیاسی ماحول مختلف سمت میں جا چکا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں بھارت میں قوم پرستی صرف ایک جذبہ نہیں رہی بلکہ ایک مکمل سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔ وہاں پاکستان مخالف بیانیہ ووٹ دلاتا ہے۔ جنگی زبان سیاسی فائدہ دیتی ہے۔ بھارتی میڈیا نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ ٹی وی چینل اب خبر نہیں بیچتے بلکہ خوف بیچتے ہیں۔ چیختی ہوئی آوازیں اور نفرت سے بھرے مباحثے کروڑوں لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ امن اب بھارت میں سیاسی طور پر کمزور لفظ بنتا جا رہا ہے جبکہ جارحیت طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔گزشتہ سال جب پاک بھارت کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی تو دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے نہ صرف تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ عسکری میدان میں بھی اپنی تیاری اور صلاحیت ثابت کی۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے جس نظم ضبط ، حکمت عملی اور دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا اس نے خطے میں طاقت کے توازن کے بارے میں کئی عالمی تجزیوں کو بدل دیا۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی سطح پر بھی ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ بھارت جو برسوں سے محدود جنگ اور دباؤ کی پالیسی پر چل رہا تھا اسے اندازہ ہوا کہ جنوبی ایشیا اب یکطرفہ طاقت کے مظاہرے کی جگہ نہیں رہا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی اس کامیابی کے باوجود اسلام آباد نے جنگی جنون پیدا کرنے کے بجائے امن اور استحکام کی بات کی۔ یہی وہ فرق ہے جو دونوں ممالک کے بیانیوں میں واضح نظر آتا ہے۔
پاکستان دفاع کو بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت میں بعض حلقے طاقت کے اظہار کو سیاسی سرمایہ بنا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کشیدگی کم ہونے لگتی ہے کوئی نہ کوئی نیا بحران جنم لے لیتا ہے۔اصل مسئلہ صرف سرحدی تنازع نہیں بلکہ اعتماد کا خاتمہ ہے۔ بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے جبکہ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ بھارت بلوچستان اور دیگر علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ماحول میں ہر واقعہ ہر حملہ اور ہر بیان دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کو مستقل خطرہ سمجھنے لگیں تو امن کی ہر کوشش شک کی دیوار سے ٹکرا جاتی ہے۔کشمیر اس پورے تنازعے کا سب سے بڑا اور سب سے دردناک زخم ہے۔ یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ شناخت، تاریخ اور انسانی تکلیف کا مسئلہ بھی ہے۔ کشمیر کی وادیاں دہائیوں سے سیاست اور بارود کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ بھارت اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان اسے ایک نامکمل تنازع سمجھتا ہے۔ جب تک اس مسئلے پر کوئی سنجیدہ سیاسی راستہ نہیں نکلتا جنوبی ایشیا میں مستقل امن محض ایک خواب رہے گا۔جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں خوف پر سیاست ہوتی ہے۔ خوف ہمیشہ امن سے زیادہ منافع دیتا ہے۔ جب عوام دشمن کے خوف میں مبتلا ہوں تو وہ مہنگائی بھوک اور ناانصافی کے خلاف کم سوال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی ماحول اکثر حکمرانوں کیلئے سیاسی فائدہ بن جاتا ہے۔ ایک غریب مزدور جو اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی حاصل نہیں کر پاتا وہ بھی جنگی نعروں میں الجھ جاتا ہے کیونکہ اسے مسلسل بتایا جاتا ہے کہ دشمن دروازے پر کھڑا ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ یہی حقیقت اس خطے کو دنیا کا خطرناک ترین خطہ بھی بناتی ہے۔ دونوں جانتے ہیں کہ مکمل جنگ تباہی ہوگی مگر دونوں اپنے عوام کے سامنے کمزور بھی نظر نہیں آنا چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور پھر رک جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا مسلسل امن اور جنگ کے درمیان معلق ہے۔شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور بھارت نہیں چاہتا۔ شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کی سیاست ابھی نفرت سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکی۔ امن صرف معاہدوں سے نہیں آتا بلکہ اعتماد انصاف اور دانش سے آتا ہے۔ جن قوموں کے بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوتی ہیں وہاں میزائلوں کے بٹن زیادہ محفوظ رکھے جاتے ہیں۔