آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام 3 روزہ ’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026ء‘ کا رنگا رنگ افتتاح کر دیا گیا جبکہ اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے دوسرے کانووکیشن میں 55 فارغ التحصیل طلباء و طالبات میں اسناد اور اعزازات بھی تقسیم کیے گئے۔
فیسٹیول کا افتتاح معروف مزاح نگار و دانشور انور مقصود نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ ’المنائی آرٹ نمائش‘ کا ربن کاٹ کر کیا۔
احمد پرویز آرٹ گیلری میں منعقدہ نمائش میں 19 نوجوان فنکاروں کے 31 فن پارے شائقینِ فن کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
کانووکیشن کی تقریب میں عراق کے قونصل جنرل ڈاکٹر ماہر مجید جیجان، الائنس فرانسیز کراچی کے ڈائریکٹر ایمانوئل بریوریک، گوئٹے انسٹیٹیوٹ پاکستان کے ڈائریکٹر آندریاس شیکوفر، سینئر صحافی غازی صلاح الدین اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں تھیٹر، موسیقی، فائن آرٹ، کمیونیکیشن ڈیزائن اور ٹیکسٹائل ڈیزائن سے تعلق رکھنے والے 55 طلبہ کو ڈگریاں اور میڈلز دیے گئے۔
تھیٹر ڈیپارٹمنٹ کی زوبی فاطمہ اور الائزہ جبکہ موسیقی ڈیپارٹمنٹ کے اظہر الشمس اور فائن آرٹ کے ایس ایم طحہٰ عباس نے گولڈ میڈلز حاصل کیے۔
کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی واحد ادارہ ہے جہاں روزانہ کوئی نہ کوئی تخلیقی سرگرمی جاری رہتی ہے۔
انہوں نے نوجوان فنکاروں کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان عالمی معیار کا فن تخلیق کر رہے ہیں۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ موجودہ دور میں آرٹ کے شعبے کو اختیار کرنا بہادری ہے، انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ آرٹس کونسل ان کے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے بھرپور مواقع فراہم کرے گی۔
تقریب کے دوران ایشا تمثیل کی کلاسیکل پرفارمنس، کاظم اور حسن کی وائلن انسٹرومنٹل، بلوچی گیت ’یونس غلام رسول‘ اور نعمان الشیخ کے صوفی کلام ’نعرہ مستانہ‘ نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
داستان گوئی میں اویس اور عمران فرحان نے پطرس بخاری کے مشہور مضمون ’کتے‘ کو منفرد انداز میں پیش کیا۔
فیسٹیول کے پہلے روز کا اختتام ناروے سے آئی فلم ساز اور مزاحیہ فنکارہ کیرن ہوج کے انٹرایکٹو تھیٹر پلے ’ڈریم گرل‘ سے ہوا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
3 روزہ ’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026ء‘ 10 مئی تک جاری رہے گا جس میں تھیٹر، موسیقی، کلاسیکل و فوک ڈانس، آرٹ نمائشوں اور مکالماتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔