• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بولٹن کونسل میں کوئی بھی جماعت اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکی

برطانیہ کے دیگر شہروں کی طرح بلدیاتی انتخابات میں بولٹن کونسل میں کوئی بھی جماعت اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

اس کی بنیادی وجہ حکمران جماعت کی ناقص پالیسیاں اور سیاسی بیانات بتائے جاتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہےکہ لیبر پارٹی کو برطانیہ بھر میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کی مد مقابل یوکے ریفارم اور گرین پارٹی نے برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کئی اہم شہروں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

بولٹن کی 20 وارڈوں میں لیبر پارٹی نے صرف دو نشستوں میں کامیابی حاصل کی جس میں فارن ورتھ وارڈ سے سفید فام امیدوار کے642 ووٹوں کے مقابلے میں ندیم ایوب نے1,131 ووٹ لے کر سیاسی معرکہ مارنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسی طرح گریٹ لیور وارڈ سے گرین پارٹی کے ایشیائی امیدوار محبوب عالم کے 1.239 ووٹوں کے مقابلے میں راجہ محمد اقبال نے 1,918 ووٹ لے کر نمایاں کامیابی حاصل کی جبکہ دیگر 18 وارڈوں میں گرین پارٹی کنزرویٹو پارٹی لب ڈیم اور یوکے ریفارم کے علاوہ انڈی پینڈنٹ سیاسی میدان مارنے میں کامیاب ہو گئیں۔

دوسری جانب گریٹر مانچسٹر میں ڈرامائی انداز میں یوکے ریفارم پارٹی نے انتخابی نتائج کی روشنی میں وگن سے25 سے 24 سیلفورڈ سے 21 میں 13 ٹمسایڈ سے19 میں سے 18 نشستیں حاصل کیں۔ بتایا گیا ہے کہ 47 برسوں میں پہلی بار لیبر پارٹی اپنا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ گریٹر مانچسٹر کی دس کونسلیں جن میں بولٹن، بری، اولڈئم، مانچسٹر ،راچڈیل ،سلفورڈ اسٹاکپورٹ، ٹیمسائیڈ ٹریفورڈاور وگن سمیت مقامی کونسلوں پر یوکے ریفارم اور گرین پارٹی نے لیبر پارٹی کا صفایا کر دیا جس پر بولٹن سے اراکین پارلمنٹ یاسمین قریشی فل بریکل نے نتائج کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی ایسے کونسلرز کو جو انتہائی محنتی تھے اپنی نشستوں سے محروم ہوتے دیکھنا حیران کن تھا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید