ناروے میں موجود پاکستانی سفیر سعدیہ الطاف قاضی کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں سفارت کاری انسانیت کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
اوسلو میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پاکستانی سفیر سعدیہ الطاف قاضی، ڈپٹی وزیرِ خارجه ناروے اندریاس کراوک اور ممبران پارلیمنٹ لیز سنڈنس، فرخ قریشی، سینئر سیاست دان خالد محمود چوہدری اور جماعتِ اہل سنت کے امام سید نعمت علی شاہ نے سیمینار میں خطاب کیا۔
سعدیہ الطاف قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں لیبر پارٹی کے پارلیمانی فورم اور خاص طور پر ممبرانِ پارلیمنٹ لیز سنڈنس اور فرخ قریشی کے ساتھ سینئر سیاست دان اور مصنف خالد محمود کا اس اہم سیمینار کے انعقاد اور ایک ایسی جگہ بنانے کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جہاں مکالمہ، عکاسی اور شراکت داری پروان چڑھ سکے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں ڈپٹی وزیرِ خارجه ناروے اندریاس کراوک کے حالیہ دورۂ پاکستان اور دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطوں کو بھی سراہتی ہوں جس میں ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے تناظر میں تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتِحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، اس طرح کے تبادلے یقینی طور پر باہمی افہام و تفہیم کو تقویت دیتے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے لمحے میں مل رہے ہیں جب دنیا گہری غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہے، جہاں کئی دہائیوں پرانے بین الاقوامی تنازعات جیسے کشمیر اور فلسطین اب بھی پُرامن حل کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ یورپ، افریقا اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی جنگیں چھڑ گئی ہیں، تنازعات بڑھ رہے ہیں، قوموں کے درمیان اعتماد تناؤ کا شکار ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پولرائزیشن ناصرف معاشروں میں بلکہ تمام خطوں اور جغرافیائی سیاسی بلاکس میں بھی گہرا ہو رہا ہے، ایسے لمحات میں امن کا کام ایک تجریدی آئیڈیل نہیں بلکہ عملی ضرورت بن جاتا ہے اور ہمیں قدرتی طور پر اسلام آباد اور اوسلو لاتا ہے۔
سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام آباد نے 1970ء کی دہائی کے آغاز میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات قائم کرنے میں ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کیا جس نے عالمی سیاست کو نئی شکل دینے میں مدد کی اور یہ ظاہر کیا کہ کس طرح طاقت کے بڑے مراکز سے باہر ممالک اب بھی بین الاقوامی سفارت کاری میں بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پھر 1990ء کی دہائی میں اوسلو ایک اور دارالحکومت کے طور پر ابھرا جو ایک شہر سے بڑی چیز کی نمائندگی کرتا ہے، اب تک 40 سے زیادہ امن اور مفاہمت کے عمل میں ثالثی کرنے کے بعد اوسلو اس یقین کی علامت ہے کہ مخالفین کے درمیان بھی بات چیت ممکن ہے، اوسلو عملی سفارتی تاریخ کا حصہ بن گیا کیونکہ ناروے نے بات چیت کے لیے سیاسی اور سفارتی جگہ بنانے کی ایسی جسارت کی جسے دوسرے ناممکن سمجھتے تھے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان 11-12 اپریل 2026ء کو ہونے والے اسلام آباد مذاکرات نے ایک اور اہم اور تاریخی سفارتی پیش رفت کی نمائندگی کی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اسی لیے آج کچھ مبصرین نے اسلام آباد کو ’نیا اوسلو‘ قرار دیا ہے جو ایک کشیدہ علاقائی اور بین الاقوامی ماحول میں پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، اب چاہے کوئی اس طرح کے موازنے کو قبول کرے یا نہ کرے، مگر بنیادی نکتہ اہم ہے جو یہ ہے کہ تیزی سے بکھرتی ہوئی دنیا میں، وہ ممالک جو ثالثی اور مکالمے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کی ایک خاص ذمے داری ہے، جسے پاکستان اور ناروے، دونوں نے گہرے عزم کے ساتھ نبھایا ہے۔
سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات نے کئی اہم امور پر خاطر خواہ پیش رفت کی اور ایسے وقت میں سفارتی جگہ بنانے میں مدد کی جب کشیدگی خطرناک حد تک بلند تھی۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان پہلے ہی دو طرفہ تعمیری تعلقات ہیں، ہمارا تعاون سفارت کاری، ترقی، تجارت، تعلیم اور عوام سے عوام کے تعلقات پر محیط ہے، اہم بات یہ ہے کہ ناروے میں مقیم پاکستانی ہمارے معاشروں کے درمیان ایک متحرک پل بن چکے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ میں اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں پاکستان فرینڈ شپ گروپ کے قیام کے اقدام کو بھی سراہنا چاہوں گی، پارلیمانی سفارت کاری آج کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے، فرینڈ شپ گروپ افہام و تفہیم کو گہرا کرنے، مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنے اور ملکوں اور لوگوں کے درمیان طویل مدتی ادارہ جاتی تعلقات استوار کرنے میں مدد کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ یہ اقدام آنے والے سالوں میں پاکستان اور ناروے کے تعلقات میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ کامیاب سفارت کاری میں اکثر خاموش گفتگو، صبر سے سننا، اعتماد پیدا کرنا اور بڑھتی ہوئی پیش رفت ہوتی ہے، یہ کوششیں ہمیشہ سرخیاں نہیں بن سکتیں لیکن وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں، آج دنیا کو زیادہ سفارت کاری اور کم کشیدگی کی ضرورت ہے۔
سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ جغرافیہ، معیشت اور تاریخ میں فرق کے باوجود ناروے اور پاکستان جیسے ممالک اس کوشش میں بامعنی حصہ ڈال سکتے ہیں، کیونکہ اقدار کا اشتراک کرتے ہوئے، ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سفارت کاری مشکل وقتوں میں بھی انسانیت کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈپٹی وزیرِ خارجه ناروے اندریاس کراوک نے تمام شرکاء کو اپنی پاکستان میں مصروفیات سے متعلق آگاه کیا اور پاکستان کی ایران، امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے مصالحاتی کوششوں کی تعریف کی۔
ڈپٹی وزیرِ خارجه ناروے اندریاس کراوک نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے علاوہ چند بڑی انسانی حقوق سے متعلق تنظمیوں کے عہدیداران سے بھی ملاقات ہوئی ہے، ایسی ملاقاتوں سے مختلف مسائل کے حل ڈھونڈنے میں نا صرف مدد ملتی ہے بلکہ معاشرے کے مختلف گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی رابطوں کو مضبوط کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔