اسلام آباد (خالد مصطفیٰ )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی مجوزہ امن شرائط مسترد کیے جانے اور تہران کی طرف سے نئے حملوں کی دھمکی کے بعد پیر کے روز عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگیا، جبکہ امریکہ، یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید بے چینی اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔اس کشیدگی نے عالمی اجناس کی منڈیوں میں ایک نیا جغرافیائی سیاسی خطرہ پیدا کر دیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں نفسیاتی حد یعنی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب یا اس سے اوپر پہنچ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی، ایندھن کی قلت، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی معاشی سست روی کے خدشات بھی بڑھ گئے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 2.47 ڈالر یا 2.44 فیصد اضافے کے بعد 103.76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.06 ڈالر یا 2.16 فیصد اضافے کے ساتھ 97.48 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ مربان خام تیل میں مزید تیزی دیکھی گئی اور اس کی قیمت 3.20 ڈالر یا 3.24 فیصد بڑھ کر 102.02 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی۔توانائی کے دیگر شعبوں میں بھی تیزی کا رجحان غالب رہا۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں 5.62 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.912 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ پیٹرول فیوچر 2.26 فیصد اضافے کے ساتھ 3.607 ڈالر اور ہیٹنگ آئل 1.54 فیصد اضافے کے بعد 3.959 ڈالر تک پہنچ گیا۔ مارس خام تیل 4.39 فیصد اضافے کے ساتھ 118.49 ڈالر فی بیرل ہوگیا، جو بھاری خام تیل کی عالمی منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے خریداری میں تیزی دکھائی۔