• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹالسٹائی کی ایک بہت مشہور کہانی ’’ How much land does a man reqiure‘‘ (ایک انسان کو کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے ) کچھ دن سے مجھے بہت یاد آرہی ہے، یہ بہت عجیب و غریب کہانی ہے، بات تو اس میں وہ کہی گئی ہے جو ہم برسوں سے سنتے چلے آرہے ہیں لیکن ٹالسٹائی نے کہانی کو جو ٹریٹمنٹ دی ہے اس سے یہ کہانی دنیا کے افسانوی ادب کی بہترین کہانیوں میں شمار ہوتی ہے۔گاؤں کے ایک غریب کسان کو خبر ملتی ہے کہ دور درازکے ایک گاؤں کے زمیندار نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسانوں میں اپنی زمین مفت بانٹے گا ، خبر کان میں پڑتے ہی یہ کسان اس گاؤں کا رخ کرتا ہے اور وہ حیران رہ جاتا ہے کہ جو خبر اس نے سنی تھی ، وہ واقعی درست ہے، ایک سر پھرا ز میندار کسانوں میں اپنی زمین واقعی مفت بانٹنا چاہتا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ فجر سے لے کر سورج غروب ہونے تک جو جتنی زمین چاہے اتنی زمین پر نشان لگا کر وہ زمین لے لے لیکن اسے بہر صورت سورج غروب ہونے سے پہلے اس پوائنٹ پر واپس پہنچنا ہوگا جہاں سے اس نے زمین پر نشان لگانا شروع کیا تھا، بصورت دیگر نہ صرف یہ کہ وہ معمولی رقم ضبط کر لی جائیگی جو زرضمانت کے طور پر زمیندار نے اپنے پاس رکھوائی ہے بلکہ اس شخص کی ساری محنت بھی اکارت جائیگی کیونکہ سورج غروب ہونے سے پہلے واپس نہ آنے کی صورت میں اسے زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ملے گا!

یہ غریب کسان اگلے روز فجر کے وقت کدال ہاتھ میں لئے اس پوائنٹ پر پہنچتا ہے جہاں سے اس نے اپنے لیےزمین شروع کرنا تھی اور پورے جوش و خروش سے زمین پر نشانہ لگاتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، پانچ چھ میل کا رقبہ نشان زدہ کرنے کے بعد وہ سانس لینے کیلئے رکتا ہے، وہ نشان زدہ زمین پر نظر دوڑاتا ہے تو یہ دیکھ کر اس کی خوشی کی حد نہیں رہتی کہ وہ ایک وسیع علاقے کا مالک بن چکا ہے، وہ واپسی کے سفر کا ارادہ کرتا ہے مگر پھر اسے خیال آتا ہے کہ تھوڑے سے فاصلے پر پھلوں کا جو ایک بڑا باغ ہے، اسے بھی اپنے رقبے میں شامل کرلے تو پورے علاقے میں اس کی امارت کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کدال ہاتھ میں پکڑ کر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ اس دوران دوپہر ہو جاتی ہے گرمی کی شدت اسے بے حال کر دیتی ہے، پیاس سے اس کی زبان سوکھ کر کانٹا بن جاتی ہے لیکن زمین کی ہوس میں وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، اب اس کا جسم جواب دینے لگتا ہے، چنانچہ وہ واپسی کا ارادہ کرتا ہے۔مگر اسے یہ دیکھ کر سخت پریشانی ہوتی ہے کہ سورج ڈوبنے میں صرف دو تین گھنٹے رہ گئے ہیں اور اس کا واپسی کا سفر اس سے کہیں زیادہ لمبا ہے۔ اس کے جسم میں بھی سکت نہیں اور پیاس نے بھی اس کا برا حال کیا ہوا ہے، تاہم وہ گھٹتا گھٹتا واپسی کا سفر شروع کرتا ہے اور کدال سے نشان لگاتا چلا جاتا ہے۔ جب منزل اس سے صرف ایک فرلانگ کے فاصلے پر رہ جاتی ہے تو وہ گر پڑتا ہے، مگر پھر وہ اپنے جسم کی ساری طاقتیں بحال کر کے کھڑا ہوتا ہے اور چلنا شروع کر دیتا ہے، اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی ہوتی ہے، اس کے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے ہیں اور اس کی زبان میں سوئیاں سی چبھ رہی ہوتی ہیں، سورج غروب ہونے میں چند لمحے باقی ہیں، تاہم وہ ادھ موئے جسم کو تیزی سے گھسیٹتا ہوا، سورج غروب ہونے سے پہلے اس پوائنٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور جہاں زمیندار اور گاؤں کے دوسرے لوگ اس کے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔ کسان اس پوائنٹ پر پہنچتے ہی گر جاتا ہے ، لوگ اس کے قریب جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔ زمیندار اس کے ہاتھ سے کدال کھینچ کر اپنے ایک مزارع کی طرف اچھالتا ہے اور کہتا ہے اس کی قبر کھود دو، اسے صرف دوگز زمین در کار تھی!آئے روز زمین پہ قبضہ کیلئے ہونے والے لڑائی جھگڑوں اور قتل و غارت کی خبروں سے یہ کہانی بار بار یاد آ رہی تھی سوچا آپ سے بھی شیئر کر لوں۔

تازہ ترین