منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ایک افسر نے میرے بھائی کو متعدد بار پکڑا اور رشوت لے کر چھوڑا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے کراچی میں ماہانہ 2 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
تفتیش میں پنکی کے زیرِ استعمال 2 موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ نکلیں۔
انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ لاہور سے منشیات بھیجنے کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا ہے، میرا شناختی کارڈ بلاک ہوا تو سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق پنکی نے بتایا کہ منشیات کی رقم موبائل ایپ سے بھیجی اور وصول کی جاتی ہے، رقم کی منتقلی کے لیے بینک اکاؤنٹ ذیشان کے نام سے بھی کھلوایا گیا۔
انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ سابق شوہر کے 2 بھائی بطور ایڈووکیٹ کام کرتے ہیں، پولیس سے بچنے کے لیے سابق شوہر منشیات وکلاء بھائیوں کے چیمبرز میں رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد تھانوں کی پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کرتی تھی، پولیس اہلکار نے میرے رائیڈرز کو حراست میں لے کر 1 کروڑ کی مجموعی رشوت لی۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار نے اتنا تنگ کیا کہ اسے قتل کروانے کی منصوبہ بندی بھی کی، پولیس اہلکار کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے کا بھی سوچا۔