• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آدمؑ کو کس چیز نے مائل کیا کہ بالآخر انہوں نے شجرِ ممنوعہ کو ہاتھ لگا ہی دیا۔ اس سے پہلے یہ کہ آدمؑ کی تخلیق کیسے ہوئی تھی ۔ کیا آناً فاناً کُن جاری ہوا اور ایک جسم مجسم ہو گیا؟ خدا کہتاہے :اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا ۔الانبیا 30۔ کیا آدمؑ ان زندہ چیزوں میں شامل نہیں ۔ کھنکھناتے ہوئے گارے میں ایسا کیا ہوتاہے ۔ یہ وہ مٹی ہے ، جس میں کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں ، جو زندگی کا بنیادی جزو ہیں۔ پانی انہیں ایک دوسرے سےتعامل کرنے میں مدد دیتاہے ۔ خدا کو کسی بات کی کوئی جلدی توہوتی نہیں ۔ یہ نظامِ شمسی کائنات کی تخلیق کے 9 ارب سال بعد تخلیق ہوا۔ امتحان انسان یا ہومو سیپین کا ہونا تھا اور وہ سب سے آخر میں جا کر تخلیق ہوا یعنی آج سے تین لاکھ سال قبل ۔سولہ کروڑ سال اس زمین پہ ڈائنا سار راج کرتے رہے ۔

انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ نری خوش فہمی ، کسی بھی لمحے اس کا صفایا ہو جائیگا۔ہومو اریکٹس سے لے کر نینڈرتھل مین تک، کئی انسان اس دنیا پہ راج کرتے رہے ۔ وہ بھی اس زعم میںتھے کہ ہم سب پہ غالب ہیں ۔پھر کیا نتیجہ نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ ہومو سیپین پیدا ہو گیااور ان سب کا صفایا ہو گیا ۔ کیا کل ہومو سیپین سے زیادہ ذہین اور طاقتور کوئی اورمخلوق پیدا ہو سکتی ہے؟ حضرت ہودؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا:میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔

بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے۔ہود 57۔نہ صرف یہ کہ ایسی کوئی نئی اسپیشیز پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ انسان کرہ ء ارض پہ اپنے تمام تر کنٹرول کےباوجود اسکا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکے گا۔ سورۃ النسا میں لکھا ہے : اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے، اور اللہ اس پر پوری طرح قادر ہے۔133۔

شیطان آدمؑ کے پاس گیا اور کہا: اے آدم کیا میں تمہیں بتا دوں ہمیشہ کا پیڑ اور وہ بادشاہی، جس میں کبھی کوئی کمی نہ آئے ۔ (طہٰ 120) اس نے ہمیشہ کی زندگی اور ہمیشہ کی بادشاہت کا سپنا دکھایا۔ حوا ؑ بھی ان کے ساتھ موجود تھیں اور غالباً انہوں نے آدمؑ کو قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ پھل کھانے کی دیر تھی ، لباس غائب ہو گیا ۔ہومو سیپین کو زمین پہ اتار دیا گیا ۔

نکالا ہم کو جنت سے فریب زندگی دیکر

دیا پھر شوق جنت کیوںیہ حیرانی نہیں جاتی

یہ واقعہ ہے آج سے 30ہزار سال پہلے کا ، جب زمین پہ یعنی نینڈرتھل کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ آدمؑ کو زمین پہ اتار کر ایک کمزور جسم میں ٹھہرادیا گیا ۔ یہ کمزور جسم کھانستااور کانپتا ہے ۔ اسے بھوک لگتی ہے ۔ اسے گرمی ستاتی ہے ۔ اسے بخار ہوتا ہے ۔ یہ جسم بڑا ہی نازک ہے ۔اس جسم میں زندگی ایک خاص حد سے زیادہ آرام دہ بنائی ہی نہیں جا سکتی۔ ایک انسان جب دنیا جہان کی دولت کما کر ، دنیا کی سب سے حسین عورت سے شادی کیلئے اسٹیج پر بیٹھتا ہے تو اچانک اسے مائیگرین کا شدید درد شروع ہو جاتا ہے ۔ اسے فوڈ پوائزننگ ہو جاتی ہے ۔ سامنے بیٹھا ہوارشتے دار ایک زہریلا جملہ کستا ہے ۔یہ وہ دنیا ہے ، جہاں محمد علی جیسے باکسر کا جسم لرزنا شروع ہو جاتا ہے ۔ یہ ہے اس دنیا کی زندگی ۔ یہ ہے وہ بادشاہت ، جس کا شیطان نے انسان کو لالچ دیا تھا ۔ اسکے باوجود جنت کا متلاشی زمین پہ محلات تعمیر کرتا ہے ۔

آج بھی شیطان انسان کو کیسے کیسے فریب دیتاہے ۔ کہتاہے ، نیچر کے قریب ہو جائو ، لباس اتار دو ، برہنہ ہو کر زندگی گزارو، سکون پائو گے ۔ ایک ڈاکومنٹری دیکھی، جس میں انسانوں کو اپنے ماضی کی اذیتیں بھلانےکیلئےایک تھیراپی ایجاد کی گئی تھی ۔ وہ تھیراپی یہ تھی کہ جنگل میں جا کر لباس اتار کے مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر زور زور سے روئیں ۔ قرآن میں لکھا ہے : اور کعبہ کے پاس ان کی نماز اس کے سوا اور کیا ہے کہ سیٹیاں اور تالیاں بجائیں ۔(الانفال35)برہنہ ہو کر کفارِ مکہ کعبہ کے گرد تالیاں اور سیٹیاں بجاتے اور اسے نیکی کا کام سمجھتے ۔ کعبہ کے اندر بت پڑے تھے ۔

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں 

لطیفہ یہ ہے کہ شیطان آج بھی انسانوں کو ہمیشہ کی بادشاہی کا سپنا دکھاتا ہے ۔ اس سے بھی بڑا لطیفہ یہ ہے کہ اس کھانستے، تھوکتے اور کانپتے جسم والا انسان مان بھی جاتا ہے ۔ اس پہ شیخ حسینہ جیسی دیوانگی طاری ہو جاتی ہے۔ وہ مخالفین کو جیل میں ڈال دیتی ہے ۔ تمام اداروں پہ قبضہ کر لیتی ہے۔ تمام الیکشن مینج کر لیتی ہے ۔ آج وہی شیخ حسینہ بھارت بیٹھی ہے ۔یہ ہے کل انسانی عقل ۔ انسان روز اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتا مگر اسی شد مد کیساتھ دائمی بادشاہت قائم کرنے کے جنون میں برسرِ پیکار رہتاہے ؛حتیٰ کہ ایک دن پھر اسے زمین میں دفن کر دیا جاتا ہے ۔

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

79سالہ ٹرمپ اور 73سالہ پیوٹن نے اس دنیا کو ایک جہنم زار بنا دیا ہے ۔ دونوں بزرگ اپنی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر دل و دماغ پہ پردے ڈال دیے گئے ہیں ۔ انہی دونوں کا کیاذکر، پورے کرہ ء ارض پہ انسان ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں ۔ لوگ کمسن ملازمائوں کو تشدد کر کر کے مار ڈالتے ہیں ۔ انسانوں کی اکثریت اپنے ماتحتوں کی تذلیل کرتی ہے ۔ ہر انسان دیوانہ وار دولت اور اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے ۔ پھر ایک دن اس کا ٹکٹ کٹ جاتاہے اور وہ پرویز مشرف کی طرح ہمیشہ کی زندگی اور دائمی اقتدار کا خواب لیے قبر میں جااترتا ہے ۔ تب وہ سوچتاہے:

وائے نادانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا

کسی شہ دماغ نے کہا تھا: لوگ سوئے پڑے ہیں ۔ موت آئے گی ، تب جاگیں گے !

تازہ ترین