• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

62 سالہ نظام میں بڑی تبدیلی، سول سرونٹس کیلئے نئے کنڈکٹ رولز جاری، سخت فریم ورک میں اثاثوں کا افشا لازمی قرار

انصار عباسی

اسلام آباد :…سرکاری افسران کیلئے 62؍ سالہ پرانے ضابطے کی جگہ پر نافذ کیے گئے نئے کنڈکٹ رولز نمایاں طور پر سخت فریم ورک ہیں جن کے تحت اثاثوں کا عوامی انکشاف لازمی قرار دیتے ہوئے دولت کے گوشواروں کو ٹیکس جانچ کے دائرے میں لایا گیا ہے، اور سوشل میڈیا کے استعمال اور مفادات کے ٹکرائو سے متعلق مفصل پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 1964ء کے منسوخ شدہ قواعد اور سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026ء کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے قواعد میں اگرچہ 1964ء کے ضابطے کے بنیادی اصولوں مثلاً سیاسی سرگرمیوں پر پابندی، سرکاری معلومات کے غیر مجاز افشا، اقربا پروری اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کی ممانعت برقرار ہے لیکن نئے ضابطوں میں جدید طرزِ حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق وسیع احتسابی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ گریڈ 17 اور اس سے بالا گریڈ کے افسران کے سالانہ اثاثہ جات کے گوشوارے، ذاتی خفیہ معلومات حذف کرنے کے بعد، عوامی سطح پر جاری کیے جائیں گے۔ 1964ء کے قواعد کے تحت یہ گوشوارے صرف ادارہ جاتی سطح پر جمع ہوتے تھے اور خفیہ رکھے جاتے تھے۔ 2026ء کے قواعد کے تحت سینئر افسران کو ہر سال 30؍ اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی ڈیجیٹل تفصیلات جمع کرانا ہوں گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان گوشواروں کی جانچ پڑتال کرے گا اور کسی بھی کمی، غلط بیانی یا غیر واضح مالی اضافہ جات کی صورت میں افسران سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ پہلی مرتبہ سرکاری افسران کو کرپٹو کرنسی جیسے ورچوئل اثاثوں کے ساتھ بینک اکائونٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50؍ لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات ظاہر کرنا ہوں گے۔ ایک اور بڑی تبدیلی مفادات کے ٹکرائو کے جامع نظام کا نفاذ ہے۔ اب سرکاری افسران پر لازم ہوگا کہ وہ ذاتی یا خاندانی مفادات کا انکشاف کریں جو ان کی سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی سے متصادم ہو سکتے ہوں، اور ایسے معاملات میں خریداری، تقرری یا دیگر فیصلوں سے خود کو دور رکھیں۔ نئے قواعد میں سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، یہ پابندیاں 1964ء کے ضابطے میں شامل نہیں تھیں۔ سرکاری افسران پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، پوڈکاسٹس، بلاگز، یوٹیوب چینلز یا اسی نوعیت کے پلیٹ فارمز کے مالک یا منتظم نہیں بن سکتے۔ انہیں ذاتی سوشل میڈیا اکائونٹس پر سرکاری کام، سہولیات یا مراعات کو ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ کیڈر ایڈمنسٹریٹر ان کے تمام سوشل میڈیا اکائونٹس کی تفصیلات افسران سے طلب کر سکتے ہیں۔ حکومت نے تحائف اور مہمان نوازی کے قواعد بھی سخت کر دیے ہیں۔ سرکاری افسران اور ان کے اہلِ خانہ کو کسی بھی فرد، کمپنی، غیر ملکی حکومت یا سفارتکار سے تحائف قبول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 2024ء کے تحت مجاز ہوں۔ اسی طرح اعلیٰ افسران کو بھی یہ افسران ایسے تحائف نہیں دیں گے جو کسی فائدے کے حصول کی کوشش تصور کیے جا سکتے ہوں۔ نئے ضابطے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری افسران اپنی ظاہر کردہ آمدنی سے بڑھ کر زندگی نہ گزاریں، اور شادیوں یا دیگر سماجی تقریبات پر اخراجات غیر معمولی یا آمدنی سے متصادم ہوں گے تو اس کی وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ ایک اور نئی شق کے تحت وہ افسران جو غیر معمولی رخصت کے دوران نجی شعبے میں ملازمت اختیار کرتے ہیں، انہیں پیشگی اجازت لینا ہوگی، اور سرکاری ملازمت میں واپسی کے بعد تین سال تک اپنے سابقہ آجر سے متعلق کسی سرکاری معاملے میں حصہ لینے سے گریز کرنا ہوگا۔ افسران کو تدریس، مشاورت اور پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے کی بھی اجازت دی گئی ہے بشرطیکہ اس سے سرکاری فرائض متاثر نہ ہوں یا مفادات کا ٹکرائو پیدا نہ ہو۔ ایسی صورت میں حاصل شدہ معاوضے کا 25واں حصہ سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔ دیگر نئی شقوں کے مطابق سرکاری افسران پر لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی فوجداری مقدمے یا گرفتاری کی فوری اطلاع اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو دیں، بے بنیاد شکایات درج نہ کریں، اور ذاتی فائدے کیلئے بیرونِ ملک دوروں یا تربیتی مواقع حاصل کرنے کیلئے غیر ملکی مشنز یا ڈونر ایجنسیوں سے براہِ راست رابطہ نہ کریں۔ وفاقی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ان قواعد کو خودمختار اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، جامعات اور سرکاری ملکیتی اداروں تک توسیع دے سکے۔ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026ء کی کسی بھی خلاف ورزی کو سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020ء کے تحت بدعنوانی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں متعلقہ افراد کیخلاف تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ نیا فریم ورک گزشتہ 6؍ دہائیوں میں پاکستان کے سول سروس اخلاقی نظام (ایتھکس ریجیم) میں لائی گئی سب سے بڑی جدت ہے، جس میں روایتی طرزِ عمل کے معیارات سے ہٹ کر شفافیت، مالیاتی جانچ اور ڈیجیٹل احتساب پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید