بنتِ فرید
برصغیر میں موسیقی کی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو صرف سُر نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہیں، جو دلوں پر ہی اثر نہیں کرتیں بلکہ نسل درنسل منتقل بھی ہوتی ہیں، یوں سُروں کی مٹھاس، فن کی لطافت اور جذبات کی گہرائی ایک نسل سے دوسری نسل تک سفر کرتی ہے، جن میں فن اور وراثت ایک ساتھ گُندھے نظر آتے ہیں۔
ان کے گائے ہوئے گیت، غزلیں جیسے ہی سماعت سے ٹکراتےہیں، فوراً گلوکار کا نام ذہن میں آجاتا ہے، جن کی منفرد پہچان ہے ،جو موسیقی کےاس خوب صورت تسلسل کی علامت ہیں جہاں سُر،احساس اور فن ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتے ہیں، ان کی آوازوں میں صرف گیت نہیں محبت، تربیت اور ثقافتی ورثے کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کچھ رشتے خون سے بنتے ہیں اور کچھ فن سے، ایسی ہی دوماں بیٹیوں کے بارے میں ملاحظہ کریں جن کی گائیکی ان دونوں رشتوں کا حسین امتزاج ہے، جہاں محبت بھی ورثے میں ملی اور آواز بھی۔ یہ ہیں ملکہ پکھراج،ان کی بیٹی طاہرہ سید ،کجن بیگم ان کی صاحبزادی مہنازبیگم،جنہوں نے نہ صرف اپنی منفرد پہچان بنائی بلکہ موسیقی کے اس سفر کو بھی آگے بڑھایا جو ماں سے بیٹی تک سُروں کی صورت میں منتقل ہوتا رہا۔
ملکہ پکھراج کی کلاسیکی گائیکی ہو یا طاہرہ سید کی نرم ادائیگی، کجن بیگم کی پُرسوز آواز ہو یا مہناز بیگم کی سادگی میں گلو کاری کا جادو، یہ آوازوں کا ایسا حسین امتزاج ہیں کہ، عرصہ دراز گزرنے کے باوجود آج بھی ان کےگائے ہوئے گیت،غزلیں سنتے ہی ان کے نام اور اندازنظروں کے سامنے آجاتے ہیں ،جیسے معروف شاعر حفیظ جالندھری کی نظم
ابھی تو میں جوان ہوں
سنتے ہی فوراً برصغیر پاک و ہند میں کلاسیکی گائیکی اور راگ راگنیوں کی مشہور مغنّیہ ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید کی آواز گونجنے لگتی ہے، سامعین مسحور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ نظم ملکہ کے ساتھ تو اس طرح جُڑی ہوئی ہے جیسے فیض احمد فیض کی نظم’’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ میڈم نورجہاں کے ساتھ، جب نور جہاں نے اسے گایا تو فیض احمد فیض جُھوم جُھوم اُٹھے اور برملا کہا، بھئی یہ نظم نور جہاں کے نام ہوئی ،حفیظ جالندھری نے ایسا تو کچھ نہ کہا لیکن اُن کی نظم بھی ملکہ پکھراج کے نام کے ساتھ اسی طرح جُڑی ہوئی ہے۔
یوں تو ملکہ پکھراج نے ہزاروں غزلیں، نغمیں اورگیت گائے لیکن وہ جہاں بھی جاتیں، ان سے ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘سنانے کی فرمائش ضرورکی جاتی۔اس نظم میں الفاظ کی تکرار اور اس کے ذریعہ پیدا ہو نے والی ’’لے‘‘ ایک عجیب سرور پیدا کرتی ہے، جس نے ملکہ کی آواز میں ایک نیا پیکر اختیار کر لیا۔اردو کے مشہور شاعر، عبدالحمید عدم کی غزل، وہ باتیں تیری فسانے تیرے،بھی ملکہ کی آواز میں بہت مقبول ہوئی۔ لیکن ابھی تو میں جوان جیسی مقبولیت نہ مل سکی ۔
کہتے ہیں، جب وہ گاتیں تو ، سُر ان کے سامنے گویا ہاتھ باندھے کھڑے رہتے اور جو کچھ وہ گنگناتیں ذہن پر نقش ہوتاجاتا تھا۔ ان کی گائیکی کا بنیادی اسلوب غزل کو مختلف راگ راگنیوں میں پیش کرنے کا خاص انداز تھا۔
ملکہ پکھراج بنیادی طور پر پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں۔ چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گلو کاروں میں ہوتا تھا۔ وہ ٹھمری کے انگ میں غزل گاتی تھیں۔
ملکہ، اپنی آواز، سر سنگیت کے ساتھ محرم کے جلوس میں مرثیے پڑھتے پڑھتے ایسی مشہور ہوئیں کہ ریاست جموں کے بادشاہ محل سے لاہور وہاں سے کراچی اور کئی چھوٹے شہروں میں رہتی، موسیقی کے رسیاوں کےدلوں پہ حکمرانی کرتی اورخود داری سے جیتی رہیں۔
جموں کے گاؤں سدھار میں آنکھ کھولی۔ پیدائش کے وقت نام "ملیکا" رکھا گیا، خالہ نے اس کے ساتھ پکھراج کا اضافہ کر دیا۔ تین سال کی تھیں کہ والد نے دوسری شادی کر لی۔ والدہ سوکن برداشت نہ کر سکیں، بیٹی کو جموں سے لے کر دہلی آگئیں،جہا ں ملکہ کو رقص و سرورکی تعلیم دلائی۔ موسیقی کی تربیت معروف گلوکار استاد بڑے غلام علی خان کے والد استاد علی بخش قصوری کے علاوہ استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی جیسے نامور موسیقاروں سے لی۔
نو سال کی عمر میں، جموں کا دورہ کیا اور مہاراجا ہری سنگھ کی تاج پوشی کی تقریب میں آواز کا ایسا جادو جگایا کہ، ہری سنگھ اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنے دربار میں بطور درباری گلوکارہ مقرر کرلیا، جہاں وہ نو برس رہیں۔ 1940ء کی دہائی میں ان کا شمارہندوستان کے معروف پیشہ ور گلوکاروں میں ہوتا تھا۔
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد، وہ پاکستان کے شہر لاہور آ گئیں، جہاں انھیں پکھراج جموں والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لاہور ریڈیو سے آواز کا جادو جگایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی آواز گلی گلی گونجنے لگی۔ لاہور ریڈیو میں موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان، نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائیں۔
ملکہ پکھراج کے شوہر شبیر حسین شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر اور فن موسیقی کے رسیا تھے، اکثر موسیقی کی محفلیں منعقد کرتے تھے، جن میں پاکستان کے بڑے بڑے نامور گلوکار حصہ لیتے تھے۔ ان کا ایک ناول جھوک سیال، جسے پی ٹی وی نے ڈرامائی تشکیل دی، بہت مشہور ہوا تھا۔
1977ء میں جب آل انڈیا ریڈیو، اپنی گولڈن جوبلی منا رہا تھا،جس کے لیے ملکہ نے تقسیم ہند تک گایا تھا ، ریڈیو انتظامیہ نے ملکہ کو ہندوستان بلایا اور 'لیجنڈ آف وائس ایوارڈ سے نوازا۔
ملکہ نےبطور اداکارہ بھی ایک فلم ’’سول میرج‘‘ میں کام کیا،جب کہ پلے بیک سنگردو فلموں ’’آزادی وطن‘‘( 1946ء) اور ’’شمی‘‘( 1950ء)کے گیت گائے۔
حکومت پاکستان نے 1980ء میں، ملکہ کو تمغہ حسن کارکردگی دیاگیا۔
4فروری 2004ء کو 90 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا ۔ملکہ نے دنیا سے جاتے وقت صرف اپنے فن کا خزانہ ہی نہیں چھوڑا بلکہ اپنی زندگی کے بیتے لمحوں سے تجربے کا نچوڑ بھی اپنی آپ بیتی’’بے زبانی زبان ہوجائے‘‘ کے عنوان سے دنیا کے حوالے کی۔
٭ ٭ ٭
ملکہ کے چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں، چھوٹی بیٹی طاہرہ سید نے ان کے نام اور کام کو آگے بڑھایا، وہ بھی اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں۔
جب، طاہرہ سید نے’’ابھی تو میں جوان ہوں ‘‘اورعبدالحمید عدم کی غزل،وہ باتیں تیری فسانے تیرے، گائی تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ غزل، نظم لکھی ہی ان ماں بیٹی کے لیے ہے۔
طاہرہ سید نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم 12 سال کی عمر میں شروع کی۔ باقاعدہ کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ان کی وجہ شہرت احمد فراز کی لکھی غزل ”یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے، کے علاوہ جھانجر پھبدی نہ، ابھی تو میں جوان ہوں“ بنے۔ طاہرہ سید، قدیم روایتی موسیقی اور غزلوں کی دلدادہ ہیں۔ان کی آواز میں اردو،پنجابی،ڈوگری اور پہاڑی گیت ریکارڈ کئے گئے،گرچہ وہ کم گاتی ہیں لیکن جو بھی گایا،کمال گایا۔
ستار نوازاستاد کالے خاں سے موسیقی کے اسرار ورموز سے آشنائی حاصل کی۔ محنت اور ریاض پر توجہ دی، جب آواز پختہ ہوگئی توجم کر اپنے اندازو آواز سے سامعین اور ناظرین دونوں کو گرویدہ کر لیا۔ موسیقی کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔
قانون داں بننے کی خواہا ں تھیں، اپنے مقصد میں کامیاب ہوئیں اور قانون داں بن گئیں۔ ایس ایم ظفر کے ساتھ کام شروع کیا،ساتھ ریڈیو ٹی وی سے ناطہ بھی جوڑے رکھا۔ نعیم بخاری سے شادی کی، جو ناکام ہوگئی۔ طاہرہ سید کا ماں کی طرح گائیکی کے انداز میں ثانی نہیں،مہذب انداز کواپنایا اور نام کمایا۔
٭ ٭ ٭
برصغیر کی نامور سوزخواں، کجن بیگمکا اصل نام امام باندی تھا ۔لکھنؤ کے قریب موضع سادات رسول پور میں پیدا ہوئیں۔ 1940ء میں جب صرف آٹھ سال کی تھیں، اپنی والدہ حسینی بیگم کے ساتھ سوز خوانی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے سوز خوانی شروع کی، بعد ازاں کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی۔
ٹھمری، دادرا ، غزل اور پوربی گیت گانے میں مہارت رکھتی تھیں۔ انہیں فضل احمد کریم فضلی نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ میں گانا گانے کی پیشکش کی مگر ان کے والد نے اس کی اجازت نہیں دی۔ کجن بیگم نے1952ء میں سوز خواں ، اختر وصی علی سے شادی کی۔ 10 فروری 2000ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔ان کی وفات کے بعد حکومت پاکستان نے 2000ء ہی میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دیا۔
٭ ٭ ٭
دنیائے موسیقی کا ایک نایاب گوہر، غزل اور ٹھمری کی گائیکی میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی مہناز بیگم کا شمار پاکستان کی صف اوّل کے گلوکاراؤں میں ہوتا ہے۔ گلوکاری کا فن ورثے میں ملا۔ والدہ کجن بیگم کی طرح مرثیہ خوانی سے آغاز کیا۔ یہ ان کا خاندانی پیشہ تھا، جس کی مہناز ساتویں پیٹرھی تھیں۔
والد اختر ولی کا تعلق بھارت کی ریاست محمود آباد سے تھا۔ وہ ریڈیو پاکستان کے مستقل ملازم تھے۔ ان کا خاندان بھارت سے 1950ء میں ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہو گیا تھا۔ مہنازنے کراچی میں آنکھ کھولی۔
چار بھائیوں کی اکلوتی بہن کا نام والدین نےشاہین اختررکھا۔ابتدائی تعلیم کراچی کے بہادر یار جنگ اسکول سے اور بی اے سٹی گرلز کالج کراچی سے کیا۔ دوران تعلیم مہناز کو مصوری اور پینٹنگ سے شغف تھا۔ والد کی خواہش تھی کہ بیٹی فائن آرٹس میں نام پیدا کرے لیکن مہناز کا رحجان موسیقی کی طرف زیادہ تھا،سو اس جانب توجہ دی۔
باقاعدہ گلو کاری کا آغاز 70 کی دہائی میں والدہ کے ہمراہ ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ ابتدائی موسیقی کی تربیت بھی والدہ نے کی ۔ معروف موسیقار استاد نذر حسین سےکلاسیکل موسیقی سیکھی۔ کجن بیگم باقاعدہ ریاض کرتیں اور مہناز کو بھی نصیحت کرتیں کہ گانے کیلئے ریاض بہت ضروری ہے۔ مہناز نےوالدہ کی اس نصیحت کو پلے سے باندھا۔ ریکارڈنگ کے دوران شدید گرمی میں بھی سترہ سترہ تانیں مسلسل لگاتیں۔
1972میں نامور گلو کار مہدی حسن کے بھائی پنڈت غلام قادر نے ریڈیو پر مہناز سےایک غزل گوائی، جس کے بعد مہناز نے اپنا نام شاہین اختر سے بدل کر ’’مہناز‘‘ رکھ لیا اور پھر اسی نام سے وہ گلو کاری کی دنیا میں مقبول ہوئیں ۔ٹی وی پر موسیقار سہیل رعنا نے مہناز کو متعارف کروایا، جلد ہی ان کی شہرت ٹی وی سے فلم انڈسٹری تک پھیل گئی۔ کجن بیگم نے اپنے والد کی طرح مہناز کے فلموں میں گانے پر پابندی نہیں لگائی۔فلمی صنعت کےعروج کے دورِ میں مہدی حسن کے ساتھ مل کرمتعدد یادگار گانے گائے۔ ٹی وی اور ریڈیو پر سیکڑوں نوحے اور مرثیے پڑھے۔
بطور پلے بیک سنگر مہناز نے سب سے پہلے 1973ء میں فلم ’’جہیز‘‘ کے لئے پہلا فلمی گیت گایا،جس کے بول تھے :
پیار تو بلمالے کیوں کرلے (یہ فلم مکمل نہ ہو سکی)۔
1972ء میں کراچی ٹیلی ویژن سے پروڈیوسر امیر امام نے میوزک پروگرام ’’نغمہ زار‘‘ میں متعارف کرایا۔ اس پروگرام میں جو گانے گائے ان کے شاعر سرور بارہ بنکوی جبکہ کمپوزر سہیل رعنا تھے۔ موسیقار نثار بزمی نے فلم ’’پہچان‘‘ کیلئے ایک گا ناریکارڈ کرایا، بول تھے
میرا پیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا
میری آنکھوں میں تیرا ہی رنگ رہے گا
فلم کےساتھ مہناز کا گایا ہوا گانابھی ہٹ ہو ا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کا شمار بطور پلے بیک سنگرمستند گلو کاراؤں میں ہونے لگا۔ مہناز نے اپنے دور کے تمام موسیقاروں کے ہمراہ کام کیا،ان میں نثار بزمی، ایم اشرف، کمال احمد، خواجہ خورشید انور، روبن گھوش، کریم شہاب الدین، نیاز احمد، واجد علی ناشاد، امجد بوبی، وجاہت عطرے، اے حمید اور دیگر موسیقار شامل ہیں۔
مہناز نے سرکاری ایوارڈ حسن برائے کارکردگی کے علاوہ 11نگارایوارڈ حاصل کیے، جن گانوں پر یہ ایوارڈ ملے، ان میں فلم ’’سلاخیں‘‘ کاگانا ’’ تیرے میرے پیار کا ایسا ناطہ ہے‘‘، فلم ’’پلے بوائے‘‘ تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناطہ ہے، فلم ’’خوشبو میں‘‘ میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے‘‘، فلم ’’بندش‘‘ کا گانا ’’تجھے دل سے لگا لوں، پلکوں میں چھپا لوں‘‘، فلم ’’قربانی‘‘ کا گیت ’’میرا تجھ سے ایسا بندھن ہے‘‘، فلم ’’کندن‘‘ کھلونے تیری زندگی کیا، فلم ’’بیوی ہو تو ایسی ہو‘‘ کا سچا تیرا پیار سچا تیرا نام، فلم ’’کبھی الوداع نہ کہنا کا‘‘ میرا پیار بھی تو میری زندگی بھی ہے تو، فلم ’’نزدیکیاں‘‘ کا لہروں کی طرح، تجھ کو بکھرنے نہیں دینگے، فلم ’’بلندی‘‘ آخری سانس تک تجھ کو چاہوں گی میں اور فلم ’’ایک اور لوسٹوری‘‘ کا گیت ’’بھیگے بھیگے موسم میں ہری ہری وادی ‘‘شامل ہیں۔ پنجابی فلموں کیلئے بھی ان کے گائےہوئے گانےبے پناہ مقبول ہوئے،جن میں ’’وے رانجھنا تیرے رنگ وچ رنگی گئی ‘‘ اور ’’وے بے ایماناں بھل تے نئیں گیاں یاداں میریاں‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔
مہناز نے اُردو، پنجابی کے علاوہ سندھی اور پشتو زبانوں میں بھی گایا، اپنے فنی کریئر میں تقریبا 800 نغمات گائے۔
موسیقی کی تاریخ میں ماں، بیٹی کی جوڑیوں نے نئی جہتوں کو روشناس کرایا۔ان کی خدمات پاکستانی موسیقی کا سرمایہ ہیں۔ آج بھی ان کے گیت، غزلیں سن کر سحر طاری ہو جاتا ہے۔ اب یہ ہیرے ناپید ہیں۔