شادی بیاہ کی تقریبات میں لوک گیتوں سے گلوکاری کا آغاز کرنے والی مائی بھاگی نے صحرائے تھر کے شہر ڈیپلو میں آنکھ کھولی۔ والدین نے نام ’’بھاگ بھری‘‘ رکھا۔
اس زمانے میں تاریخ پیدائش یاد رکھنے کا رواج نہ تھا، جب بھی کوئی مائی بھاگی سے تاریخ پیدائش کا پوچھتا تو جواب ملتا " میں تو تھری ہوں، جہاں صدیوں سے رہتے آ رہے ہیں۔ تاریخ اور عمر کا حساب تو تم شہری بابو رکھتے ہو"
والدین بھا گی کو آٹھ دس سال کی عمر ہی سے اپنے ساتھ تقریبات میں لے کر جاتے، جہاں وہ ڈھول بجا کر ان کا ساتھ دیتی، کچھ عرصے بعد اُس نے گانا بھی شروع کردیا، بعد ازاں گاؤں اور قریبی علاقوں میں تقریبات اور خوشی کے مواقع پر گانے کے لیے جانے لگی۔
وہ اَن پڑھ اور شہری زندگی کے طور طریقوں سے ناواقف تھی، لیکن غربت، اور دیہی زندگی کے مسائل نے اُسے حالات کا مقابلہ کرنا اور اعتماد سے جینا ضرور سکھا دیا تھا، جلد ہی نہ صرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ برصغیر میں جہاں جہاں لوک موسیقی شوق سے سنی جاتی تھی، مائی بھاگی کی آواز بھی وہاں تک گئی۔
تھر کی وادیوں میں گونجنے والی آواز جب جگہ جگہ مشہور ہوئی تو مائی بھاگی کے سرکاری اور غیر سرکاری دوروں میں اضافہ ہوگیا، جہاں متعدد ممالک میں سندھی، سرائیکی، ٹھاٹکی اور مارواڑی زبان میں لوک گیتوں کے ساتھ بھٹائی، سچل سر مست، مصری شاہ، حمل شاہ اور بھلے شاہ کا کلام بھی گایا۔
مائی بھاگی نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت تو نہیں لی تھی،پھر بھی آواز اور انداز میں ایسا جادو تھا جوسننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔ انہیں اس وقت بڑی کام یابی نصیب ہوئی جب وہ اپنے والد کے ساتھ ماروی کے میلے میں گئیں، جہاں کئی قابلِ ذکر شخصیات ان کی آواز سےمتأثر ہوئیں۔ اس میلے میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد مرکز سے وابستہ آرٹسٹ اور عملہ بھی موجود تھا۔
یہ 1963 کی بات ہے۔ تقریب میں موجود اس وقت کے ریڈیو پروڈیوسر شیخ غلام حسین نے مائی بھاگی کو ریڈیو پاکستان حیدرآباد آنے کی دعوت دی جوانہوں نے قبول کرلی۔ میلے ہی میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد مرکز سے وابستہ آرٹسٹ اور عملے نے مائی بھاگی کے گیت ریکارڈ کر کے نشرکئے تو ریڈیو کے سامعین بھاگی کے گیت سننے کی فرمائش کرنے لگے، بھاگی نے ریڈیو پر، اپنا پہلا لوک گیت’’کھڑی نیم کے نیچے‘‘ریکارڈ کرایا،جو اتنا مقبول ہوا کہ جس تقریب میں مائی بھاگی شرکت کرتیں لوگ یہ گیت سنانےکی فرمائش کرتے۔
یہ وہ گیت ہے جس نے بھاگ بھری کے بھاگ بدل دئیے اور انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ گیت اپنے اندر ایک خاص موسم، خاص وقت، خاص تہذیب لئے صدیوں سے جاوداں ہے۔
گیت کا پس منظرکچھ یوں ہے کہ، روپلو کولھی کو انگریز پکڑ کر دار پر لٹکانے کے لیے لے کرگئے تو اس سے آخری بار پوچھا گیا:
’’ہم آپ کو چھوڑ سکتے ہیں، زندگی بخش سکتے ہیں۔ صرف یہ بتا دو کہ آپ کا ٹھاکر راجپوت مُکھیہ کہاں روپوش ہے‘‘ ؟
کوہلو ایک مضبوط راجپوت, وطن پرست، ایمان دار،وفادار صحرائی تھا ایک لفظ نا بولا،
اتنے میں اس کی شریک حیات تھر پارکر کی سرسوتی" رنگو بائی" کی آواز آئی:
" روپلا، اگر تم نے انہیں کچھ بتایا تو تھر پارکر کی کولہنیاں مجھے طعنے دیں گی، آے دن کوسیں گی کہ وہ دیکھ غدار کی بیوی۔ میں تیرا مرا ہوا منہ تو دیکھ سکتی ہوں، اپنے آپ کو ودھوا قبول کر سکتی ہوں لیکن ایک غدار کی بیوی نہیں" یہ سن کر، روپلو کے حوصلے بلند ہوے، اُس نے انگریز افسرکو کچھ نہ بتایا تو رسی کھینچ لی گئی۔
روپلو ،سانس کی ڈوری ٹوٹنے تک درخت کی شاخ میں لٹکا رہااور صدیوں تک امر ہو گیا۔ اس کے بعد تھر میں رسم ٹہری کہ، سر کا سائیں گھر سے نکلتا تو سُندری نیم کے نیچے کھڑی ہو کریہ لوک گیت گُنگناتی،
" کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ھیکلی
جاتو ڑا بٹاڑو ماناں چھنے مانے دیکھ لے"
رنگو بائی تا حیات اسی نیم کے پیڑ نیچے یہ گیت گنگاتی رہی۔
سولہ برس کی عمر میں مائی بھاگی کی شادی اسلام کوٹ کے ممتاز لوک فنکار ’’ہوتھی فقیر‘‘ سے ہوئی ۔شادی کے بعد، مائی بھاگی نے تھر کے ہی مشہور گلوکار استاد مراد فقیر کے ساتھ مختلف زبانوں میں گانے گئے، جن میں سرائیکی، مارواڑی، سندھی اور برصغیر کی دیگر زبانیں شامل تھیں،جس کے بعد ان کی شہرت پاکستان کے طول و عرض سے نکل کردنیا کے دیگر علاقوں تک جاپہنچی۔
صوفیانہ طبعیت اور پیر فقیروں سے عقیدت رکھنے والی مائی بھاگی کو،حکومت پاکستان نے1981ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ، شاہ عبدالطیف اور سچل سرمت سمیت متعدد ایوارڈز بھی ملے۔
9 جولائی 1986 کو مائی بھاگی کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے جانا تھا، مگر دستِ اجل نے انھیں مہلت نہ دی اور 7 جولائی کو مائی بھاگی سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئیں۔