• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے اس سے یہ کہا: حادثاتی طور پر میں کالم نگار توبن گیا۔الفاظ کا ذخیرہ مگر محدود تھا ۔محاذ پہ ایک سپاہی جب ایمونیشن کی کمی کا شکار ہو ! میں روہانسا ہو گیا۔ کچھ دیر وہ سوچتا رہا۔ پھر اس نے یہ کہا :بعض اوقات ایک لفظ کافی ہوجاتاہے ،کبھی پیراگراف بے معنی ۔ ہیڈ ماسٹر عبد الشکور شاعر آدمی تھا، الفاظ سے کھیلتا تھا ۔سات علوم کا ماہر۔ لسانیات پہ عبور ، منطق پہ دسترس، تقابلِ ادیان کا ماہر ۔ علم الکلام کو جیسے چاہے برت لیتا ۔ اب مگر سبکدوشی کے تین عشرے بعد اس زمانے میں زبان تو کیا، انسانیت ہی زوال پذیر تھی ۔

ٹی وی سے بھارتی فلمیں نشر ہوتیں۔ مائوں میں بچوں سے غلط سلط انگریزی بلوانے کا مقابلہ ۔ ریاکاری عام تھی اورانسان ہپناٹائزڈ ۔ چونچ بنا کر سیلفی لیتی لڑکیاں ، اسٹیٹس پہ اسٹیٹس چڑھاتے لڑکے ۔ 105سالہ بوڑھا دائمی عذاب میں مبتلا تھا۔ہاں مگر اس گھر میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی تھا ۔ ننھا، فرید ، اس کے پوتے کا بیٹا ۔ جو اسے دیکھ کر خوشی سے پکار اٹھتا ’’دادا‘‘ ماسٹر اپنا رکھ رکھائو بھول کر گھوڑا بن جاتا۔ فرید کے منہ سے اسےایک ایسی خوشبو آتی کہ وہ پھر سے جی اٹھتا۔ نئی نسل کے لیے مگر اب بوڑھا ایک عجوبے کی طرح تھا ۔ اس دن ایک لڑکی نے آکر کہا : دادا تمہاری پنشن آئی ہے،ڈیڑھ سو روپے ۔ میز پر بیٹھے لڑکے لڑکیوں نے قہقہہ لگایا۔یہ قہقہہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ بیگ پہلے سے تیار پڑا تھا۔ماسٹر گھرسے نکل آیا۔

بیٹے اورپوتے اس کے پیچھے لپکے ۔بولے : خاندان کے سب سے بڑے بزرگ کے طور پر وہ ان کے لیے بے حد اہم ہے مگر یہ آج کے بچے! ان کے پاس دلائل تھے اور وضاحتیں ۔ ماسٹر نے کلام شروع کیا۔ اس نے ان کی کھوکھلی وضاحتیں انہی پر الٹا دیں ۔اس نے کہا : تمہیں جگ ہنسائی کا ڈر نہ ہو، تم مجھے جنگل چھوڑ آئو۔ انہوں نے دوبارہ دلائل دیے ۔ ماسٹر نے منطق کی رو سے ان کے پرخچے اڑادیے ۔وہ اژدھا بن کر حقیر سانپوں جیسے ان کے دلائل نگل گیا۔ وہ دم بخودرہ گئے ۔ خاموشی طاری ہو گئی ۔

یہی وہ وقت تھا، جب اس نے ایک ننھی آواز سنی ۔ " دادا" نجانے کہاں سے لڑکھڑاتا ہوا فرید آگے بڑھا۔ آنکھیں آنسوئوں سے بھری ہوئی ۔ نجانے کب سے وہ یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ نجانے کیسے اس نے یہ محسوس کیا کہ دادا ہاتھ سے نکل رہا ہے ۔اس وقت جب بڑوں کی تمام وضاحتیں ناکام ہو چکی تھیں ، ننھے فرید نے اپنی ننھی منطق پیش کی ۔ بولا  "دادا ۔۔نا"  ماسٹر نے اس کے الفاظ دہرائے " دادا ۔۔نا" ہیرے کی طرح ترشے ہوئے الفاظ ۔اپنے بڑوں کے برعکس نہ کوئی جھوٹی دلیل، نہ اپنے بے قصور ہونے پہ زور ۔ غیر مشروط طور پر بچے نے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔ بوڑھا سوچنے لگا۔رات تک تو فرید کو صرف تین لفظ آتے تھے ۔چوتھا کس نے سکھایا؟غیر معمولی حالات میں ،خوفزدہ بچے نے لڑائی کے دوران ہی اپنی لغت میں بیس فیصد اضافہ کیا اور برت دیا۔بچہ بہت خوفناک ذہنی ورزش سے گزرا اور تھک چکا تھا۔ بیچارے کے پاس الفاظ نہیں تھے ورنہ کہنا وہ یہ چاہتا تھا: 

ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

ایک آنسو فرید کی دائیں پلک پہ جگمگا رہا تھا۔ ماسٹر کےدل میں میٹھا سا درد اٹھا۔ ننھے فرید نے تو ایک لفظ میں اپنا مدعا سمجھا دیا ۔ایک لفظ کا جواب ایک لفظ ہی ہو سکتا تھا۔ ایسا لفظ کون سا ہو ، جس سے ننھے فرید کووہ ساری صورتِ حال سمجھا پائے ۔بوڑھے ماسٹر نے ساتوں علوم ٹٹولے مگر افسوس۔ اس نے خود کو ایک عجمی محسوس کیا، عرب شاعر سے جس کا واسطہ آن پڑا ہو۔اس نے کہا :آدمؑ کو جب جنت سے نکالا گیا تو ان کے پاس توبہ کا کوئی لفظ نہیں تھا۔کائنات میں پہلی بار ہی تو کسی نے توبہ کرنا تھی ۔ اس وقت آدمؑ کے پاس صرف آنسو تھے ۔ ہو سکتاہے ، بہتے آنسوئوں کے درمیان اس وقت انہوں نے فقط یہ کہا ہو "اللہ…نا"

توبہ ہی تو مقصود تھی ۔فاسلز کا ریکارڈ تو ورنہ یہ بتاتا ہے کہ دو ٹانگوں والے پچھلے 80لاکھ سال سے زمین پہ فساد کرتے پھر رہے تھے ۔فرشتے اسی لیے توانسان کو نائب بنانے پہ دہائی دیتے پھر رہے تھے کہ یہ خون بہائے گا۔ خدا نے دیکھا کہ آدم بیچارے کو تومعافی مانگنا بھی نہیں آتی ۔اسے آدم پہ پیار آیا۔اس نے آدمؑ کے دل پہ توبہ کے الفاظ نازل کیے اور انتظار کرنے لگا۔ دیکھوں ذرا کیسے معافی مانگتا ہے ۔ہے کوئی سخی ایسا جو معافی مانگنے کے خواہشمند کو الفاظ سکھائے۔ قرآن کہتاہے’’ فتلقیٰ ‘‘ آدمؑ پہ توبہ کے الفاظ القا ہوئے ۔ خود ہی توبہ نازل کر رہا ہے ، خود ہی قبول۔

خدا کو پتہ تھا کہ شیطان جیسا شاطر آدمؑ کا ہاتھ شجرِ ممنوعہ کو لگوا کے رہے گا۔زمین کو انسان کا مسکن بنانے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔ خدا کہہ چکا تھا : انی جاعل فی الارض خلیفہ ۔ خود ہی گناہ پہ اکساتی جبلتیں پیدا کیں اور خود ہی سمجھاتی بجھاتی عقل ۔خود ہی جنت اور جہنم بنائی اور خود ہی اپنے آخری نبیؐ  کو شفاعت کا حق دے دیا ۔ ہم آخری زمانے کے انسان صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے ۔ دائمی زندگی کی آرزو میں بیچارے آدم نے درخت کو ہاتھ لگا یا تھا:

نکالا ہم کو جنت سے، فریبِ زندگی دے کر

دیا پھر شوق جنت کیوں؟ یہ حیرانی نہیں جاتی

کرہ ء ارض کی یہ زندگی اس کے سوا اور کیا ہے کہ انسان مصیبت میں پڑتا رہے اور خداکو پکارتا رہے ورنہ تو خدا کو وہ بھول جاتا۔آج زمین کے دوزخ میں بلکتا ہوا انسان خدا سے البتہ یہ ضرور کہتاہے : 

جب گلستاں میں بہاروں کے قدم آتے ہیں

یاد بھولے ہوئے یاروں کے کرم آتے ہیں

لوگ جس بزم سے آتے ہیں ستارے لے کر

ہم اسی بزم سے بادیدہء نم آتے ہیں

چشمِ ساغرؔ ہے عبادت کے تصور میں سدا

دل کے کعبے میں خیالوں کے صنم آتے ہیں

میں بھی جنت سے نکالا ہوا اک بت ہی تو ہوں

ذوقِ تخلیق تجھے کیسے ستم آتے ہیں

تازہ ترین