پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائیکورٹ نے صوابی کے مشہور زمانہ والدین اور بیوی کے قتل کیس میں 3 بار سزائے موت پانے والے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمے سے بری کرنے کاحکم دیدیا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے پہلے سوتیلے والد، پھروالدہ او ر بعد میں بیوی کو قتل کیا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کےخلاف قابل اعتماد اور ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہاہے جس کی بنیاد پر سزا برقرار رکھی جا سکے۔جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان مشتمل بنچ نے 35صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کا مقدمہ محض شکوک وشہبات اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے جبکہ کوئی براہ راست یا مضبوط شہادت پیش نہیں کی جاسکیں جو ملزم کوتہرے قتل سے جوڑ سکے۔بنچ نے ملزم شاہ روم کی اپیل پر سماعت کی۔ انکے وکیل شبیرحسین گگیانی نے بتایاکہ واقعہ 8جون 2023 کو تھانہ ٹوپی کی حدود میں پیش آیا۔ ملزم کو صوابی سیشن کورٹ نے 13مارچ 2025 کو والدہ فراست بی بی، سوتیلے والد روید خان اور بیوی زبیدہ کے قتل جرم میں 3 بار سزائے موت سنائی جبکہ مقتولین کے ورثا کو پانچ، پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔انہوں نے بتایاکہ مقدمے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں ،استغاثہ کے شواہد تضادات اور خامیوں سے بھرے ہیں۔ملزم پر یہ الزام بھی تھا کہ وہ واردات کے بعددبئی فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تاہم اسے ایف آئی اے نے اسلام آباد ائیرپورٹ سے گرفتار کیا۔