کراچی (محمد منصف) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نتائج کے خلاف حکم امتناع میں9جون تک توسیع کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ میرٹ کا قتل 302سے بڑا جرم ہے اس کی سزا قتل سے بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ عدالت عالیہ نے درخواست گزاروں کو کمیشن امتحان میں کامیاب امیدوارں کو فریق بنانے کی ہدایت کردی جبکہ جسٹس نثار بھمبھرو نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن میں مقرر اسسٹنٹ پروفیسر کو بلا کر یہاں مضمون لکھوایا جائے اگر اس میں پاس ہوگیا تو تمام امیدوارں کو پاس کردیں۔ سماعت کے موقع پر سندھ پبلک سروس کمیشن نے بنچ کے سربراہ محمد سلیم جیسر کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ریکارڈ سیل کر دیا گیا ہے ،قانون کے مطابق ایگزیمنر کی تفصیلات نہیں دے سکتے ہیں البتہ صرف ری کائونٹ ہوسکتا ہے۔کمیشن خود امتحان نہیں لیتا بلکہ اس کے ایگزیمنرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن میں مقرر اسسٹنٹ پروفیسر کو بلا کر یہاں مضمون لکھوایا جائے اگر اس میں پاس ہوگیا تو تمام امیدوارں کو پاس کردیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت میں انٹرویو بھی ان لائن ہوتے ہیں پیپر بھی چیک ہوتے ہیں۔جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے کہا کہ اس کیس میں ہمشہ کے لئے چیزیں طے کردی جائیں گی۔ 71 کو یہاں بھیجیں ان سے ٹیسٹ لیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کہ کتنے پاس ہوتے ہیں ؟ ہم نے کمیشن کو تالا لگوایا یہ پھر بھی نہیں سدھرے ہیں۔ جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ قانون تب چلتا ہے جب اس پر عمل درآمد ہو میرٹ کا قتل 302 سے بڑا جرم ہے اسکی سزا قتل سے بھی زیادہ ہونی چاہیے میرٹ گلی محلوں کے بچوں کی پراپرٹی ہے ایک امیدوار کے فیل کا مطلب تمام فیل ہیں۔