• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ہر سال تمباکو سے 164,000 افراد ہلاک، ڈبلیو ایچ او

لاہور ( جنرل رپورٹر ) عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ اور ) نے عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی جو31 مئی کو منایا جانا ہے کے موقع پر پاکستان میں تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہر سال تمباکو نوشی کے باعث ایک لاکھ 64 ہزار اموات جبکہ معیشت کو 1800 ارب روپےجو 6.6بلین امریکی ڈالر بنتے ہیں سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2025میں تمباکو صنعت کی جانب سے تقریباً 265ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا۔جبکہ نوجوانوں اور بچوں کو نشانہ بنا کر مختلف نکوٹین مصنوعات کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا کہ سگریٹ، ای سگریٹ، نسوار اور دیگر تمام تمباکو و نکوٹین مصنوعات انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اور یہ دل، پھیپھڑوں اور کینسر سمیت کئی مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔
لاہور سے مزید