اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی، تخریب کاری اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک مالی معاونت، تربیت، اسلحہ اور لاجسٹک سہولیات فراہم کرتا ہےجس کےباعث بی ایل اے مقامی کمزور خواتین اور نوجوانوں کو خودکش حملوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سینئر سکیورٹی حکام متعدد بار اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی پشت پناہی نے بی ایل اے کی عملی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیاجس کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور دیگر قومی ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا ہے۔حکومتی مؤقف کے مطابق القاعدہ اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے۔ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ کے اہم سرپرست ہیں جو افغان سرزمین کے ذریعے معاونت فراہم کر کے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان بی ایل اے کے بعض عناصر کے لیے ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہےجہاں تربیت اور منصوبہ بندی کے بعد پاکستان میں دراندازی کی جاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے سہولت کاروں، بھرتی ہونے والوں اور خودکش حملہ آوروں کی نقل و حرکت ممکن بنائی جاتی ہے۔حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی ایک تشویشناک جہت بلوچ خواتین اور لڑکیوں کا استحصال ہے۔