تہران (اے ایف پی) ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ کے ساتھ ایک مجوزہ مفاہمتی یاداشت میں12ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے کا معاہدہ شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسودہ غیر سرکاری ہے، جبکہ اسی نوعیت کی ایک رپورٹ کو وائٹ ہاؤس پہلے ہی “جعلی” قرار دے چکا ہے۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پیش کیں، تاہم دونوں ممالک کے ذرائع نے ایک دوسرے کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ 60 دن کے اندر 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک ایران کو مکمل رسائی دی جائے گی، جس کے بعد یہ رقوم ایران کی مرضی کے مطابق بینکوں میں بغیر کسی پابندی کے منتقل کی جا سکیں گی۔دوسری جانب ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب تک مزید نوٹس نہ ہو کوئی رقم کا تبادلہ نہیں ہوگا”، جسے ایرانی میڈیا نے مستند ذرائع کے حوالے سے مسترد کیا۔مزید یہ کہ اس ہفتے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ نے قطر کا دورہ کیا تاکہ منجمد رقوم کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے، جو مجوزہ معاہدے کا حصہ ہے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی برقرار رکھے گا، جسے ایران نے جنگ کے آغاز سے بند کر رکھا ہے اور جس سے عالمی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں۔تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس اہم بحری راستے کو “بغیر رکاوٹ شپنگ کے لیے دوبارہ کھولے گا”، جبکہ امریکہ بارہا کہہ چکا ہے کہ اس اسٹریٹجک راستے پر ایران کا کنٹرول ناقابلِ قبول ہے۔