کراچی (ٹی وی رپورٹ) امریکہ سے ماہر بین الاقوامی اُمور ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ امریکی عوام نے شروع دن سے جنگ کی حمایت نہیں کی۔ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور شاید کوئی بھی نہیں رکھتا اور یہی اُن کا کمال ہے کہ وہ مختلف بیانات دے کر اپنی پوزیشن واضح نہیں ہونے دیتے بہرحال اس وقت ٹرمپ جس اُلجھن کا شکار ہیں وہ اسٹرٹیجی کم اور مجبوری زیادہ ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان سلیم صافی نے کہا کہ امریکہ و ایران جنگ میں امریکہ کے صرف تیرہ فوجی ہلاک ہوئے اور جب کہ دوسری طرف سپریم لیڈر سمیت ایران کے ہزاروں لوگ شہید ہوئے اس کے باوجود امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ ڈاکٹر عادل نجم نےکہا کہ ٹرمپ کے حالیہ ٹوئٹ میں سب سے زیادہ اُمید پاکستانی میڈیا پر نظر آئی جبکہ اس ٹوئٹ میں انہوں نے ایران سے متعلق کئی چیزوں پر عملدرآمد کرنے کا کہا تھا جو ایران کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ٹرمپ کے ٹوئٹ کرنے کے بعد ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے بھی اس قسم کی کوئی بات کی جارہی ہے یا نہیں، مثال کے طور پر ٹرمپ نے جب عمان کے خلاف بیان دیا تو ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے غلطی سے بات کر دی ہے لیکن پھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اس پر بات کر کے ایک طرح سے تصدیق کردی کہ یہ صرف ٹوئٹ نہیں اسٹیٹ پالیسی بھی ہے۔