• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری یونیورسٹیوں کا مالی بحران باعث تشویش ہے، ایسوسی ایشنز

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)سرکاری یونیورسٹیاں شدید مالی بحران کا شکار، بجٹ میں اضافے کے لیے وزیرِاعظم کو کھلا خط، فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز کی جانب سے ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں میں جاری شدید مالی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِاعظم، اراکینِ پارلیمنٹ اور وزرائے اعلیٰ کو ایک کھلا خط لکھا گیا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ وفاقی و صوبائی بجٹ 2026-27 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جاری اور ترقیاتی فنڈز میں فوری طور پر نمایاں اضافہ کیا جائے۔فیاپواسا کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر اختیار علی گھمرو، نائب صدر عبدالصمد خان اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد مدثر کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گرانٹس میں اضافہ نہ ہونے، مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملک کی یونیورسٹیاں تنخواہیں اور پنشن ادا کرنے سے بھی قاصر ہو چکی ہیں۔ تحقیقی لیبارٹریاں ناکارہ ہوتی جا رہی ہیں اور تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم زیادہ تر طلبہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے تعلیمی بجٹ میں کٹوتی سے براہِ راست سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عام خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ تنظیم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو صرف صوبائی مسئلہ سمجھنے کے بجائے وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور پی ایس ڈی پی بجٹ بحال کرکے یونیورسٹیوں کو فوری مالی امداد فراہم کرے تاکہ ملک کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔
کوئٹہ سے مزید