کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں پیدا ہونے والے 40 سے زائد اقسام کے پھلوں اور سبزیوں کی سالانہ پیداوار 16 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، تاہم جدید طرز کے کولڈ اسٹوریج اور محفوظ ترسیلی نظام نہ ہونے کے باعث 20 سے 30 فیصد تک زرعی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے، جس سے کاشتکاروں اور ملکی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے،رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر سالانہ 5 ملین ٹن پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں، جن میں سیب، انگور، چیری، خوبانی، انار،آلوبخارا،تربوز ،کیلا،کھجور، خربوزہ ،خوبانی،زیتون سمیت مختلف اقسام کی موسمی سبزیاں شامل ہیں رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے موسمی پھل نہ صرف ملک بھر میں پسند کیے جاتے ہیں بلکہ بیرون ممالک بھی برآمد کیے جاتے ہیں، تاہم جدید کولڈ اسٹوریج، پراسیسنگ یونٹس اور ٹرانسپورٹ سہولیات کی کمی کے باعث بڑی مقدار میں پیداوار منڈیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو جاتی ہےماہرین کے مطابق اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، محفوظ پیکنگ، کولڈ چین سسٹم اور برآمدی سہولیات فراہم کی جائیں تو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سے زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبےبھر میں جدید کولڈ اسٹوریج، فوڈ پراسیسنگ پلانٹس اور زرعی تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔