• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متبادل ادویات کی صنعت: درآمدی خام مال پر انحصار سے پاکستان کو سالانہ 200 ملین ڈالر کا نقصان

لاہور (جنرل رپورٹر ) متبادل ادویات کی ٓصنعت: درآمدی خام مال پر انحصار سے پاکستان کو سالانہ 200 ملین ڈالر کا نقصان ۔پاکستان ایسوسی ایشن آف الٹرنیٹو میڈیسن (پام) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان متبادل ادویات کی صنعت کے لیے درکار خام مال کا 70 فیصد سے زائد حصہ پہلے بھارت اور اب چین سے درآمد کرنے پر مجبور ہے، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے بلکہ ہماری برآمدات کا حجم بھی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، عالمی ہربل مارکیٹ 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔، جبکہ پاکستان اس میں محض 0.5 فیصد (تقریباً 80 ملین ڈالر) کا حصہ رکھتا ہے، حالانکہ ہماری سرزمین پر 6,000 سے زائد اقسام کی جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔ اس وقت ہماری صنعت کا ایک بڑا حصہ درآمد شدہ خام مال پر منحصر ہے، اور ہم محض اسی درآمدی مال کو ری پیک یا پراسیس کر کے برآمد کرنے کو کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ پام کے مرکزی صدر کاشف اسلم ملک کا کہنا ہے کہ "ہماری خوشی مصنوعی ہے کہ ہم چین سے مال منگوا کر برآمد کر رہے ہیں؛ اصل معاشی بہتری تب آئے گی جب ہم اپنی سرزمین پر اگنے والی جڑی بوٹیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ʼمیڈ اِن پاکستانʼ کے نام سے دنیا میں متعارف کروائیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت مقامی سطح پر ان جڑی بوٹیوں کی کاشت اور پروسیسنگ کو صنعتی درجہ دے کر فروغ دے، تو پاکستان اگلے 3 سالوں میں اپنی برآمدات کو 500 ملین ڈالر تک پہنچا سکتا ہے، جس کے لیے فوری پالیسی سازی اور حکومتی سرپرستی ناگزیر ہے۔
لاہور سے مزید