اسلام آباد(اسرار خان/تنویر ہاشمی) ایندھن جھٹکا، مہنگائی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح 11.7 فیصد پر پہنچ گئی۔آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے باعث ٹرانسپورٹ، پٹرول اور ڈیزل قیمتوں میں نمایاں اضافے نے مہنگائی کو بڑھایا۔ مئی میں گرانی کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ، مہنگے ایندھن نے معیشت کولپیٹ میں لے لیا۔ گندم، آٹا، پیاز، ٹماٹر، گوشت اور گندم مصنوعات مہنگی، آلو، مرغی، چنے کی دال، انڈے، چینی اور سبزیاں سستی ہوئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مئی 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.7 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ 22 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے منسلک ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ مئی 2026 کی یہ شرح گزشتہ سال اسی مہینے میں ریکارڈ کیے گئے 3.46 فیصد کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) یا مجموعی مہنگائی اپریل میں 10.8 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 11.7 فیصد ہو گئی، جو جون 2024 کے بعد سب سے بلند شرح ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران اوسط مہنگائی 6.7 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 4.6 فیصد تھی۔6.7 فیصد کی اوسط مہنگائی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 5سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے کی بالائی حد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔قیمتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں مرکزی بینک پہلے ہی 27 اپریل کو اپنی پالیسی شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کر کے اسے 11.50 فیصد کر چکا ہے۔