تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکی ایوان نمائندگان نےصدرٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی کارروائی سے روکنے کیلئے قرارداد منظور کرلی ‘208کے مقابلے میں یہ قرار داد 215 ووٹوں سے منظور ہوئی‘4ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے امریکا کی ایران کی خلاف جنگ کی مخالفت کی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے ایران جنگ اور صدر کے اختیارات محدود کرنے سے متعلق ایوان نمائندگان کی قرارداد کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈیموکریٹس میری ایک اور کامیابی دیکھنے کے بجائے ملک کو ناکام ہوتا دیکھنا پسند کریں گے۔ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو نجی طور پر بتایا ہے کہ اگر ایرانی حملوں میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے تو وہ تہران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے پر غور کر سکتے ہیں‘ادھر ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں دشمنوں کو فیصلہ کن دھچکا پہنچایا ہے جس کے بعد امریکا اور اسرائیل گہری ذلت کا سامنا کررہے ہیں ‘امریکا اور اسرائیل جنگ میں ناکامی کے بعد ایران کے اندر تقسیم کا بیج بونا چاہتے ہیںجبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کاکہنا ہے کہ ہماری عسکری پوزیشن اب اس سے زیادہ مضبوط ہے جتنی جنگ سے پہلے تھی۔بحری آمد و رفت کی نگرانی کرنے والی فرم کیپلرکے مطابق 70لاکھ بیرل تیل سے لدے ایران کے چارآئل ٹینکرزگزشتہ روزامریکی ناکہ بندی توڑکر آبنائے ہرمز عبورکرگئے ۔حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے لبنان اسرائیل جنگ بندی مستردکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہتھیار ڈالنے اور شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہو گاجبکہ ایران کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی کےمطابق اسرائیل کو لبنان میں جنگ سے پہلے والی پوزیشنوں پر واپس جانا ہو گا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیاہے کہ لبنان سے اسرائیلی انخلا کےبغیر خطے میں امن نہیں ہوگا‘امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے لبنان سمیت تمام محاذوں پر سیز فائر لازمی شرط ہے جبکہ رہبراعلیٰ کے مشیر محسن رضائی کاکہنا ہے کہ معاہدے کے مسودے میں کچھ نکات کی وضاحت ابھی باقی ہے‘جنگ کے خاتمے کے لیے زیربحث مفاہمت کی یادداشت کے موجودہ مسودے میں کچھ ابہام ہیں جن کی وضاحت کی جانی ضروری ہے۔ٹرمپ ایران پر اپنی شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں اور تہران کی شرائط کو مبہم حالت میں رکھنا چاہتے ہیں۔ دریں اثناءاقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے نے جمعرات کو رکن ممالک کو ایک رپورٹ بھیجی ہے جس میں ایران سے اپنے اس مطالبے کو دہرایا گیا ہے کہ وہ ایک سال قبل اپنے جوہری مراکز پر ہونے والی بمباری کے بعد سے اپنے افزودہ یورینیم کی صورتحال کے بارے میں ایجنسی کو فوری طور پر مطلع کرے اور معائنے مکمل طور پر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے۔رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ایران پر زور دیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدےپر مؤثرطریقے سے عمل درآمد کرنا ناگزیر اور انتہائی ضروری ہے اور یہ کہ کسی بھی صورت حال میں ایران کی جانب سے اس کے نفاذ کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔