کراچی( افضل ندیم ڈوگر)بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کی 4سال میں ترقی کا ماڈل پاکستان میں ذراعت اور معاشی ترقی کیلئے ناگزیر دکھائی دے رہا ہے۔ ایک مشہور کامیڈین سے وزیراعلی پنجاب تک پہنچنے والے بھگونت مان نے وہ کر دکھایا جو پچھلے 70 سال میں سیاستدان نہ کرسکے۔ عام آدمی پارٹی کے وزیراعلٰی بھگونت مان کے فلاحی کاموں کے سوشل میڈیا پر چرچے ہیں۔ ایک معمولی کسان کے غریب بیٹے بھگونت مان نے بچپن سے لڑکپن تک کھیتوں میں کام کرنے کے دوران جو مشکلات خود برداشت کیں اب ان کے حل کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی پنجاب میں ہر شہری کو 300 یونٹ بجلی مفت دی جا رہی ہے۔ تقریباً 90 فیصد گھرانوں کو بجلی کے بل زیرو آ رہے ہیں۔ یہ ایسے ممکن ہوا کہ بھگونت مان نے وزارت اعلی سنبھالتے ہی بڑا بجلی گھر سرکاری طور پر خرید لیا اور خریداری بند کرکے کوئلے کی سرکاری کانوں سے فراہمی شروع کردی۔ 70 سال میں کسانوں کو ٹیوب ویل چلانے کیلئے بجلی رات 9 بجے سے صبح 5 بجے کے دوران فراہم کی جاتی تھی۔ بھگونت مان نے خود یہ تکالیف برداشت کیں تو وزیراعلی بنتے ہی کسانوں کو ٹیوب ویلز پر بجلی صبح 9 سے 6 بجے دستیاب کردی اور اب کسان بھی دفتری اوقات میں کام کرتا ہے۔ بھارتی پنجاب کے غیرآباد علاقوں میں نہریں تو موجود تھیں مگر ٹیل تک پانی پہنچنا ایک خواب تھا۔ محکمہ ایری گیشن کی ایسی چابی گھمائی کہ اب پورے پنجاب میں صحراؤں تک نہری پانی کی فراوانی ہے۔ نہری پانی کا رساو روکنے کیلئے بھگونت مان نے پورے پنجاب میں نہریں اور کھال پکے کرادیئے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں کھالے ختم کرکے زرعی زمین زیادہ استعمال میں لانے کیلئے شہروں کی طرح دیہات میں بھی واٹر سپلائی کی زیر زمین لائنیں بچھائی جا رہی ہیں۔ بھارتی پنجاب کے دور دراز کے دیہات میں سفر انتہائی مشکل تھا اب دیہات میں سڑکوں کے جال بچھائے جارہے ہیں۔ کم زمین والا کسان ہی یہ مشکل جان سکتا ہے کہ اگر اس کی تھوڑی سی زمین میں بجلی کے کئی کھمبے گزار دیے جائیں تو ٹریکٹر نہ چل پانے کھیتی مشکل ہو جاتی ہے، کرنٹ سے اموات بھی ہوتی ہیں، بھگونت مان نے بچپن میں یہ تکالیف دیکھیں اور اب زرعی زمین کو پورا استعمال کرنے کیلئے اپنے آبائی گاؤں سے کھمبے اکھاڑنے کا عمل شروع کرادیا ہے، دیہات میں بجلی زیر زمین کی جا رہی ہے۔ ہر شہری کو 10 لاکھ روپے تک کی علاج کی سہولت ہے۔