کراچی( افضل ندیم ڈوگر )بھارتی پنجاب کے وزیر اعلٰی بھگونت مان کی 4سالہ کارکردگی پر بھارتی سیاست دان شدید اختلاف رائے کا شکار ہیں،اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں حکومت ناکام، کرپٹ اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ حامی ان کی حکمرانی کو فلاحی قرار دیتے ہیں جبکہ بی جے پی، کانگریس، شرومنی، اکالی دل حکومت کو ناکام، کرپٹ اور بیرونی دباؤ کا شکار قرار دیتے ہیں۔ بھگونت مان حکومت پر کرپشن، منشیات کی روک تھام میں ناکامی، بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور ریاست پر بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ جیسے الزامات عائد ہیں۔ اپوزیشن لیڈر پرتاپ سنگھ باجوہ کا کہنا ہے کہ بھگونت مان الیکشن کے وقت کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات کی وجہ سے پنجاب پر قرضوں کا بھاری بوجھ ہے اور بھگونت مان عوامی توقعات پر پورا نہیں اترسکے۔ منشیات، جرائم کو جڑ سے اکھاڑنے میں ناکام ہیں۔ سیلاب میں حکومتی اقدامات نہ ہونے سے عوام کو شدید نقصانات اٹھانا پڑے۔ بھگونت مان کی کارکردگی پر بھارتی میڈیا کے ملے جلے تاثرات ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس، دی ہندو جیسے اخبارات بھگونت مان سرکاری کی مفت بجلی اسکیموں، سرکاری نوکریوں کی بحالی اور بدعنوانی کے خلاف مہم جیسے اقدامات پر پذیرکر رہے تاہم پنجاب میں بڑھتے ہوئے جرائم، گینگسٹرز کلچر اور منشیات کی اسمگلنگ پر میڈیا میں اکثر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ پنجاب پر بڑھتے ہوئے مالیاتی قرضوں اور مفت اسکیموں کے باعث خزانے پر پڑنے والے بوجھ پر بھی بھارتی میڈیا کو تشویش ہے۔