اسلام آباد(رپورٹ:،رانامسعود حسین) وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایک مقدمہ جلد نمٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا پر مبنی آئینی درخواست کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی تمام ہائی کورٹسں آزاد اور خودمختار ہیں، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کے ماتحت نہیں ،جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 14مئی 2026کو گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی بنام ماسٹرز ٹائلز کیس کی سماعت مکمل کی ،3صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے قلمبند کیا ،جس میں قراردیا گیاکہ ملک میں اس وقت 5خودمختار ہائی کورٹیں کام کر رہی ہیں ،ہر ہائی کورٹ ایک آزاد آئینی عدالت ہے، ہائی کورٹ نہ تو سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے،اگرچہ ہائی کورٹ کے فیصلے سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کسی اعلیٰ عدالت کے ماتحت ہیں، ضلعی عدالتیں یا دیگر ایسی عدالتیں جو آئین کے آرٹیکل 203کے تحت قائم ہیں، وہ ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں۔