اسلام آباد ( فاروق اقدس خصوصی رپورٹ) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنے اور مفاہمت کیلئے مذاکرات میں موثر سفارت کاری کی کامیاب کوششوں سے پاکستان خطے میں امن کے قیام کی خواہش اور عملی کردار کے ایک نئے حوالے سے سامنے آرہا ہے جس کا اعتراف محض دونوں فریقین ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے بڑے اور اہم ممالک کے دارالحکومتوں میں اہم شخصیات اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر ستائش اور توصیفی تذکروں سے کیا جا رہا ہے گزشتہ روز روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی انٹرنیشنل اکنامک فورم کی تقریب کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بالخصوص حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کی موثر اور خود مختار خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے ایک بھارتی صحافی کے اس منفی سوال کے جواب میں کہ۔۔ کیا پاکستان مکمل طور پر چین کے زیر اثر آ چکا ہے؟ روسی صدر نے اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی اور ملک کے زیر اثر یا تابع ہے ۔