• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
—فوٹو بشکریہ کرک انفو
—فوٹو بشکریہ کرک انفو

ہوم آف کرکٹ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی پچ پر سوالات اٹھنے لگے، پچ کے آئی سی سی اسکروٹنی میں آنے کے خدشے کا اظہار کیا جانے لگا۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جا رہے لارڈز ٹیسٹ میں پہلے 2 روز میں 33 وکٹیں گر چکی ہیں۔

جیکب بیتھل میٹ ہنری کی بہت نیچے رہنے والی گیند پر آؤٹ ہوئے جس پر کمنٹیٹرز نے بھی تبصرے کیے۔

کمنٹیٹر میل جونز نے کہا کہ آپ ایسی گیند پر کچھ بھی نہیں کر سکتے، چوتھی اننگز میں نیوزی لینڈ کو یہ پچ پریشان کرے گی۔

اسٹیورٹ براڈ کا کہنا ہے کہ جیکب بیتھل اس بال پر کچھ نہیں کر سکتے تھے یہ فرش پر رول کرتے گئی۔

مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ پچ کے باؤنس میں تسلسل کی کمی ہے، ایل بی ڈبلیو کے امکانات اسی لیے بڑھے، میرا نہیں خیال کہ یہ ایک اچھی پچ ہے، گزشتہ برس انگلینڈ بھارت کا ٹیسٹ میچ اچھا تھا لیکن پچ اچھی نہیں تھی۔

انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا ہے کہ لارڈز گراؤنڈ کا درمیانی حصہ بہت اچھا نہیں، پچ میں پیس کی کمی ہے، باؤنس ناہموار ہے، سیم اس وقت ہوتا جب بادل چھائے ہوں، بیٹرز کے لیے ناہموار باؤنس سے بڑھ کر بری چیز کوئی نہیں۔

واضح رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں پہلے روز 16 اور دوسرے روز 17 وکٹیں گریں۔

انگلینڈ ٹیم نے پہلی اننگز میں 140 اور دوسری اننگز میں 226 رنز بنائے تھے جبکہ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 113 رنز بنائے اور دوسری اننگز میں 36 رنز پر 3 وکٹیں گر چکی ہیں، نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 218 رنز درکار ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید