اسلام آباد(کامرس رپورٹر) تمباکو ایکشن کمیٹی خیبر پختونخوا کے چیئرمین ارشاد خان نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، بصورت دیگر ہزاروں کسانوں اور کاروباری افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے،دنیا بھر میں ایکسپورٹ کو مراعات دی جاتی ہیں اور برآمد کنندگان کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں تمباکو ایکسپورٹ پر بھاری فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، ایکسپورٹرز کو فی کلو تمباکو پر تقریباً 390 روپے ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر محصولات پیشگی جمع کرانے کا کہا جاتا ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے برآمدات تقریباً ناممکن ہو گئی ہیں، اگر حکومت بینک گارنٹی یا پوسٹ ڈیٹڈ چیک جیسے متبادل طریقہ کار متعارف کر دے تو برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے،خبیر پختونخوا کے تمباکو کاشتکارنمائندوں عبدالطیف و دیگرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےتمباکو ایکشن کمیٹی خیبر پختونخوا کے چیئرمین ارشاد خان نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ سال کی تمباکو فصل اب تک فروخت نہیں ہو سکی جبکہ نئی فصل بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے۔