اسلام آباد(رپورٹ ، تنویر ہاشمی)پاکستان میں مجموعی قومی بچت 1992 میں جی ڈی پی کے 17.4 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں صرف 6.4 فیصد رہ گئی ہے، جو خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جبکہ گزشتہ 3 برسوں کی پاکستان کی اوسط قومی بچت جی ڈی پی کا صرف 10.9فیصد ہے جبکہ اسی عرصے میں بنگلہ دیش نے 21 فیصد، بھارت نے 28 فیصد سے زائد اور ویتنام نے 30 فیصد جی ڈی پی کے برابر بچت کی ،یہ انکشاف پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی پاکستان کی مقامی بچت سے متعلق پالیسی رپورٹ میں کیا گیا ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین عشروں کے دوران بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور آئی ایم ایف پروگرام کے پیچھے ایک ہی بنیادی خرابی کارفرما رہی ہے،ایک ایسا ملک جس نے بتدریج بچت کرنا چھوڑ دی اور اب اپنے مستقبل کی مالی ضروریات بیرونی قرضوں کے ذریعے پوری کرنے پر مجبور ہے،رپورٹ کے مطابق قومی آمدنی کا 93.6 فیصد حصہ صرف کھپت پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ افراطِ زر اکثر بینکوں کی جمع شدہ رقوم پر ملنے والے منافع سے زیادہ رہی ہے، جس کے باعث رسمی بچت ایک یقینی مالی نقصان بن چکی ہے،اس صورتحال میں گھرانے نقد رقم جمع کرنے، سونا خریدنے اور جائیداد میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جو نہ تو صنعتوں کے قیام میں مدد دیتے ہیں اور نہ ہی روزگار پیدا کرتے ہیں، یہ خالصتاً منفی بچت کی حیثیت اختیار کرچکی ۔