• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ 27-2026، ٹیکسوں کے نفاذ اور ریلیف اقدامات پر آئی ایم ایف کی منظوری کا انتظار

اسلام آباد (مہتاب حیدر) بجٹ 27-2026؛ ٹیکسوں کے نفاذ اور ریلیف اقدامات پر آئی ایم ایف کی منظوری کا انتظار، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی اور پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کی تجویز۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بجٹ ساز مالیاتی سال 27-2026 کے آئندہ بجٹ کے لیے مجوزہ ریلیف اور اضافی ٹیکس اقدامات پر آئی ایم ایف کے اشارے کے منتظر ہیں۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب میں کمی، سپر ٹیکس میں 2 فیصد کمی، برآمد کنندگان پر ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف کی تجویز دی ہے۔ تاہم سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور تقریباً دو درجن کے قریب دیگر اشیاء پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کی معیاری شرح تک کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے درخواست کی ہے کہ ماحول دوست اور توانائی کی بچت کو یقینی بنانے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو کم رکھا جائے۔ یہ درخواست ’’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی‘‘ کے تحت 1.4 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نےدی نیوز کو تصدیق کی ہے کہ 30جون 2026 کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کو کم کر کے 13428ارب روپے کرنے کے بعد، اب آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر اگلے مالی سال 27-2026کیلئے ٹیکس وصولی کے ہدف کو بڑھاکر 15264 ارب روپے کرنے کے لیے اعداد و شمار کا جوڑ توڑ کرنا حکومت کے لیے انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید