کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہر کو خوبصورت اور دلکش بنانا دنیا بھر میں میونسپل اداروں کی ذمے داری ہوتی ہے، مگر ملک کے سب سے اہم اور معاشی حب کراچی میں صورت حال اس کے برعکس ہے جس کی انتظامیہ خواب غفلت کا شکار دکھائی دیتی ہے، شہر کی کسی بھی بڑی شاہراہ، محلوں کی گلیوں میں نگاہ دوڑائی جائے تو ہر مقام پر ایک سے ایک بینرز اور اشتہارات لگے اور لکھے دکھائی دیتے ہیں سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے جلسے اور اجتماعات کے حوالے سے بینرز اس کے ہونے کے بعد بھی لہرا رہے ہوتے ہیں، جبکہ احتجاجی بینرز بھی حکام کا مذاق اڑاتے ہیں، دوسری جانب جسمانی طاقت، جادو ٹونے، اور مختلف علاج کے اشتہارات سے شہر کی دیواریں بھری پڑی ہیں مگر اس کی صفائی پر کسی کی توجہ نہیں جاتی، بعض رہنمائوں کی رہائی کے بینرز اور مطالبات اس کی رہائی کے باوجود سڑکوں کی زینت بنے ہوئے ہوتے ہیں مگر نہ تو بلدیہ عظمی کراچی اور نہ ہی ٹائونز کے حکام شہر کو خوبصورت بنانے ،اور غیر معیاری بینرز اور نعروں کو صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوسکے ،شہر کراچی کا ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کے سامنے مذاق نہ بن سکے، شہر کی مصروف ترین شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ،شاہراہ پاکستان،نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، لانڈھی ،کورنگی، شاہ فیصل کالونی، ملیر، اورنگی ٹائون، گلستان جوہر کیا ہر مقام اور مصروف شاہرائوں پر سال بھر بعد بھی تاریخ اور ایونٹ کے گذرنے کے باوجود بینرز اور نعرے لکھائی دے رہے ہیں، اکثر بجلی کے کھمبوں پر پھٹے پرانے اور بد رنگ کے بینرز صفائی ستھرائی کے اداروں کے منتظر ہوتے ہیں، یہ بات اور بھی قابل افسوس ہے کہ کئی تعلیمی اداروں، لڑکے اور لڑکیوں کے کالجز اور جامعات کی دیواروں پر جسمانی طاقت بڑھانے کے اشتہار لکھے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر کسی کی توجہ اس جانب نہیں جاتی ہے۔