کراچی(اسٹاف رپورٹر)وی سی اردو یونیورسٹی کیخلاف احتساب اور سمسٹر کی تکمیل یقینی بنانے کا مطالبہ، وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق اور گلشن اقبال کیمپسز کی انجمن اساتذہ نے یونیورسٹی میں شدید مالی اور تعلیمی بحران کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی میں قبل از وقت منعقد ہونے والے امتحانات کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کا اعادہ کیا اور کہا کہ وائس چانسلر دھونس، زبردستی اور انتظامی دباؤ کے ذریعے جونیئر اساتذہ اور ملازمین کو قبل از وقت امتحان لینے پر مجبور نہیں کرسکتے ۔ مشترکہ پریس ریلیز کے ذریعے اساتذہ کی دونوں تنظیموں نے یونیورسٹی کے چانسلر و صدر پاکستان آصف علی زرداری، وفاقی وزیر تعلیم اور یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور سیمسٹر اور کریڈٹ آورز کی تکمیل کے بغیر، محض طالب علموں سے فیسیں بٹورنے کی غرض سے قبل از وقت امتحانات کا انعقاد کروانے پر وائس چانسلر کو شوکاز نوٹس جاری کریں۔ اساتذہ کا موقف ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری یونیورسٹی کے موجودہ تعلیمی اور مالی بحران کے اصل ذمہ دار ہیں، لہٰذا ان کے خلاف فوری طور پر احتسابی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ اساتذہ کی دونوں انجمنوں نے یونیورسٹی میں سیمیسٹر کا دورانیہ نا مکمل ہونے، دو ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، 25 ماہ کی ہاؤس سیلنگ، 4ماہ کی پینشن اور بعد از ریٹائر منٹ بقایاجات کی ادائیگی سمیت میڈیکل پینل بحال کرنے تک یونیورسٹی میں امتحانی عمل کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔